خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 538
خطبات طاہر جلد 13 538 خطبہ جمعہ فرمود و 22 جولائی 1994ء ہدایتوں سے بڑھ کر ہدایت لانے والے تھے ان کو حکم ہو کہ ان کی ہدایتوں کی پیروی کر۔مراد وہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ ان کی ہدایت کی کوئی بھی قیمت نہیں اگر وہ خدا کی طرف سے نہیں تھیں اور اگر خدا کی طرف سے تھیں تو کون ہے جو اس ہدایت کے سامنے سر بلند کر سکے۔یہ وہ توحید فی الرسالت ہے جس کی یہ باتیں کر رہے ہیں۔اور پھر یہ خیال کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے سارے شریک منظور آپ کے وصال کے بعد شریک منظور نہیں تو اس بات کو تو ان کے عقیدے کھلم کھلا جھٹلا رہے ہیں۔اس قدر دوغلا پن، اس قدر منافقت، اتنا جھوٹ۔قوم کو بتاتے نہیں یہ دوسرے سانس میں کہ عیسی ابن مریم نازل ہوگا اور نبی اللہ کے طور پر نازل ہوگا ! اور کیا ان کے فتوے شائع ہوئے نہیں ہیں کہ وہ امت میں آئے گا اور امت میں نبوت کرے گا اور جو اس کی نبوت سے انکار کرے گا وہ امت محمدیہ سے باہر نکل جائے گا۔پکا کافر اور پکے سے پکا کافر ہو جائے گا!!۔تو نبوت کے تو خود قائل ہیں۔آنحضرت مے کے بعد آنے والے کے قائل ہیں لیکن مشر کا نہ نبوت کے یہ قائل ہیں ہم نہیں۔ہم جس نبوت کے قائل ہیں وہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں مسیح پیدا ہو گا آپ کے غلاموں میں سے اٹھے گا اور آپ کی غلامی میں ہر شرف پائے گا۔یہ شریک کو بلاتے ہیں آج سب سے بڑی شریک مسلمانوں کی عیسائیت ہے اور عیسائیت کے رسول کو امت محمدیہ میں نازل کرتے ہیں اور کہتے ہیں شرک فی الرسالت برداشت نہیں کر سکتے اور پھر شرک کیا ہوتا ہے!۔اس کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ یہ ایسے نبی کی رسالت اور نبوت کو تسلیم کریں گے، اس کے کہے میں چلیں گے، نبی اس کو کہا کریں گے اس کی نبوت کا کلمہ پڑھیں گے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے وَ رَسُولاً إِلى بَنِي إِسْرَاءِ یک یہ جو میسی تھا اس کو ہم نے بنی یل اسرائیل کا نبی بنا کے بھیجا تھا امت محمدیہ کا نبی کبھی نہیں بنایا۔قرآن کہے گا بنی اسرائیل کا نبی۔مولوی کہیں گے نہیں ، بنی اسرائیل ہی کا منظور ہے کیونکہ ہم تو مرے جاتے تھے امت محمدیہ میں تو ناممکن تھا کہ کوئی پیدا ہو جائے اس لئے شکر کرو خدا کا۔غیر قوموں سے ہی ، آیا تو سہی اور اس بے چارے نے دو ہزار سال قید تنہائی کائی ہے اب اس کا انکار کرو گے، ظلم نہ کرو، جیسا کیسا بھی ہے قبول کرلو، چاہے امت موسوی کا ہو اس سے کیا غرض ہے، نبی چاہئے تھا نا نبی آ گیا۔پر نبی چاہئے کیوں تھا؟ نبوت تو بند ہے۔بند کیوں ہوئی اگر چاہئے تھا!؟ پہلے ان تضادات کو تو حل کر لو پھر یہ بڑھکیں مارو جو تم مارتے ہو