خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 47
خطبات طاہر جلد 13 47 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء پھر اس لذت کو احساس کے لئے مختلف خلیے عطا ہونے شروع ہوئے اور اسی طرح اعصابی نظام بنایا گیا اسی طرح دماغ بنایا گیا جس تک اعصابی نظام کے ذریعے پیغامات پہنچتے تھے اور اس سے تعلق والی تمام چیزوں کو جب مجموعی صورت میں دیکھا جائے تو یہ ایک مادی لذت کی ، ایک اپنی الگ شان ہے جس کو کھانے پینے کی لذت سے ملایا نہیں جا سکتا ، ایک الگ قسم کی چیز ہے۔لیکن اس کے باوجود اس کا آغاز بقاء کی تمنا سے ہی شروع ہوا، ایک بقاء کی تمنا ہے ایک مکان کے اندر انسان بڑھنا چاہتا ہے جسم میں بھی اور جسم میں جب نہیں بڑھ سکتا تو پھر علم میں بڑھنے کی تمنا اسے ایک لذت بخشتی ہے۔اور جتنا انسان علم میں ترقی کرتا ہے اتنی اس کی کائنات پھیلتی چلی جاتی ہے اور وہ وجود جو محدود ہے علم کے ذریعے لا محدودیت کی طرف اس کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح زمانے میں آگے بڑھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنسی خواہشات عطا کیں، جو اپنی ذات میں مقصد نہیں ہیں بلکہ ہمارے آگے بڑھنے کے احساس کے نتیجے میں ہمیں یہ صلاحیتیں عطا ہوئیں کہ ہم جب سمجھتے ہیں ہاں ہم آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس سے ایک لذت پیدا ہوتی ہے۔اس لذت کو ان خلیوں میں ڈھالا گیا اس اعصابی نظام میں ڈھالا گیا وغیرہ وغیرہ۔پس عام انسانی سفر پر جب ہم غور کرتے ہیں تو بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ بڑی بھیا نک قسم کی لذات ہیں یعنی ایک مومن کو جو روحانیت کو فوقیت دیتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ لذتیں تو دنیاوی ہیں۔ان لذتوں کی سیری کیسے ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ کے تعلق میں۔یہ درست ہے کہ کھانے پینے کی لذت کی، جنسی لذت کی لمس کی لذت کی، خدا تعالیٰ کی ذات سے براہ راست سیری ناممکن ہے۔ویسی ہی مثال ہے جیسی ایک جانور کی میں نے دی تھی کہ وہ انسانی لذتوں کا تصور نہیں کر سکتا اور انسان سے وہ لذتیں پا نہیں سکتا۔جو اس کو اپنے محدود دائرے میں عطا ہوئی ہیں۔تو پھر وہ کیسے ممکن ہے کہ ہم خدا سے اسی قسم کے مضمون کی اعلیٰ لذات حاصل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہماری تمام اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 ، صفحہ: 21) وہ اعلیٰ لذات کیا چیز ہیں؟ یہ مضمون ہے جو پوری طرح پچھلی دفعہ واضح نہیں ہوسکا تھا۔جسے