خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 520
خطبات طاہر جلد 13 520 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 / جولائی 1994ء طرف سے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں اور اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوتے ہیں۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کا اگلا حصہ دینی پہلوؤں سے تعلق رکھتا ہے۔سیاست کے متعلق میں ضمنا صرف اتنا کہوں گا کہ بار بار بعض دفعہ خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے اور ایک نہیں دو بار موقع دیتا ہے اور اگر بار بار ناشکری کی جائے اور ان موقعوں سے فائدہ اٹھا کر اصلاح نہ کی جائے۔قوم کی سرداری سپرد کی جائے اور اس کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کیا جائے تو پھر خدا تعالیٰ کی عذاب کی تقدیر بھی نازل ہو جایا کرتی ہے۔وہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک مہلت ہے اور کب تک نہیں ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مہلت کے دن اب تھوڑے رہ گئے ہیں۔اس لئے میں چاہتا تو یہ تھا کہ ایک ہی خطبے میں آج جلدی میں وہ ساری باتیں کہہ دوں مگر جب میں نے مضمون کو دیکھا اور اس کا احاطہ کرنے کی کوشش کی تو اتنا وسیع تھا کہ شاید دو خطبوں میں بھی پورا نہ ہو سکے شاید تین خطبوں تک یہ مضمون چل جائے۔میری دعا ہے کہ اللہ مہلت کو اتنا لمبا تو ضرور کرے کہ کوئی عقل والے جو ہیں وہ بچ جائیں۔عوام الناس میں جو شریف طبقہ ہے ان تک آواز پہنچے وہی سمجھ جائیں۔اور ایسا بہت سا شریف طبقہ عوام الناس میں موجود ہے جو لاعلمی کے نتیجے میں غلط کاری میں ملوث ہے۔تو جتنے آدمی بچ سکیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت ہے۔حضرت نوح کو کون نا کام کہہ سکتا ہے جن کے آنے پر چند کے سوا ساری قوم کی صف لپیٹ دی گئی تھی۔کون بد بخت ہے جو یہ کہے گا کہ نوح ناکام رہا۔نوح ناکام نہیں رہے بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے قرآن نے ان پر سلامتی بھیجی ان چند آدمیوں کا بچانا بھی نوح کی فتح تھی اور ان سب کا فرق ہو جانا بھی نوح کی فتح تھی۔پس سچائی اس بات سے مستغنی ہو جایا کرتی ہے کہ خدا کی تقدیر کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔خدا کی تقدیر سے کوئی مستغنی نہیں ہوسکتا مگر ان معنوں میں مستغنی ہو جاتی ہے کہ خدا کی تقدیر پر بچے لوگوں کا کوئی اختیار نہیں ہوا کرتا۔وہ ہر تقدیر پر راضی رہنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔پس ہماری کوشش تو یہی ہے سمجھانے کے نتیجے میں، دعاؤں کے نتیجے میں۔جہاں تک کوئی قوم سنبھل سکتی ہے سنبھل جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر جو خدا کی تقدیر ہے ہم اس پر راضی ہیں اسے تبدیل کرنے کی کسی انسان میں طاقت نہیں ہے وَإِذَا اَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَال (الرعد :(12) کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم کو اسی کی بدیوں کی سزا