خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 514
خطبات طاہر جلد 13 514 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء درمیان ایک جدو جہد جاری ہے اور اس کا نہ ناموس خدا سے کوئی تعلق ہے نہ ناموس رسول سے کوئی تعلق ہے۔یہ اصطلاحیں اب پاکستان اور ہندوستان اور بنگلہ دیش میں گھڑی گئی ہیں ورنہ تاریخ اسلام تو اس سے بہت پہلے سے ہے جبکہ یہ قصے نہ اٹھائے گئے نہ زیر بحث لائے گئے۔آج بھی جو مصر میں فسادات ہوتے رہتے ہیں اور حکومت اور ملانوں کے درمیان مستقل جد و جہد جاری ہے وہ کس عصمت انبیاء کے نام پر کس کی خاطر ہے؟ الجیریا میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے اس کا عصمت رسول سے بھلا کیا تعلق ہے؟ ایران میں ملانوں نے جس نام پر قوم پر غلبہ حاصل کیا اس کا عصمت رسول سے کیا تعلق تھا ؟ سوڈان میں جو کچھ ہوتا رہا اور اب ہورہا ہے اس کا عصمت رسول سے کیا تعلق ہے؟ غرضیکہ تمام عالم اسلام پر آپ نظر ڈالیں ایک لمبی جد و جہد ہے جو ملائیت کی مسلمان سیاست کے خلاف ہے اور وہ جب تک سیاست پر قابض نہ ہو جائیں ان کی دل کی بھڑک ٹھنڈی نہیں ہو سکتی۔پس یہ محض مختلف بہانوں کے نام رکھے گئے ہیں، کہیں اس کا نام عصمت انبیا ء رکھ دیا گیا ہے، کہیں اس کا نام یہ رکھا گیا ہے کہ یہ ہمارے سیاسی راہنما اسلام کے دشمن اور دنیاوی طاقتوں کے نام پر کھیلنے والے ہیں۔کہیں امریکہ کے ایجنٹ بنائے گئے، کہیں یہودیت کے ایجنٹ بنائے گئے، کہیں انگریزوں کے ایجنٹ بنائے گئے۔بہانوں کے نام مختلف ہیں لیکن بہانے کی غرض سب جگہ ایک ہی ہے کہ ملاں مذہب کے نام پر سیاسی غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ سیاست دان جو اس بات کو سمجھتے نہیں اور ملاں کے سامنے انچ انچ کر کے یا چپہ چپہ یا بالشت بالشت یا پھر قدموں اور میلوں میں زمینیں چھوڑتے چلے جارہے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ بلا جتنی زیادہ زمین پر قابض ہوتی ہے اتنی زیادہ طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے اور پیچھا چھوڑنے کا تو کوئی سوال ہی باقی نہیں۔آج ایک بہانہ ٹوٹا تو کل دوسرا بہانہ بنے گا۔کل وہ بہانہ توڑا گیا تو تیسرا بہانہ بنے گا۔احمدیت کا جھگڑ ابظاہر قوم پکارے گی جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ نوے سالہ مسئلہ حل ہو چکا اور اسے حل ہوئے کتنی مدت گزر چکی ہے۔74ء میں کہتے ہیں حل ہوا تھا اور آج 94 ء ہے تو بیس سال پہلے جو مسئلہ حل ہو گیا تھا کیا اس مسئلے نے قوم کا پیچھا چھوڑ دیا!؟ اس لئے کہ ملاں وہ بلا ہے جو پیچھا چھوڑ نے والی بلا ہی نہیں ہے۔اس حیثیت کو تم سمجھتے نہیں، تم جانتے نہیں، یعنی سیاستدان جانتے نہیں کہ حقیقت میں یہ سیاستدان کی گردن پر پنجے گاڑنے کے لئے بہانے بنائے گئے ہیں اور ان پنجوں میں یہ گردن زیادہ سے زیادہ جکڑی جارہی ہے، یہ شکنجہ تنگ ہو رہا ہے۔پس ان کو اس سے