خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد 13 503 خطبہ جمعہ فرمود و 8 جولائی 1994ء مستقل حصہ بنالیا جائے تو پھر یہ بات ہمیشہ وقت پر خود بخود یاد آ جایا کرے گی۔ضروری نہیں کہ ہر جلسے سے پہلے خلیفہ وقت ان باتوں کو ہمیشہ دہرائے ، نہ یہ ضروری ہے کہ آئندہ خلفاء بھی اسی طریق پران باتوں کو دہراتے رہیں مگر وہ چیزیں جو نظام کا حصہ بن کر نقشے میں داخل ہو جایا کرتی ہیں وہ از خود موقع کے اوپر یاد آ جایا کرتی ہیں۔پس یہ وہ نئی بات ہے جو میں چاہتا ہوں کہ تمام دنیا کے سالانہ جلسوں کے انتظامات میں داخل کر دی جائے کہ ہر افسر جو کسی شعبے کا انچارج ہے وہ اپنے شعبے میں کام کرنے والوں کے لئے نماز با جماعت کے قیام کے لئے جو بھی منصوبہ بناتا ہے اس کی تحریری رپورٹ وہ اپنے افسر کو پیش کرے اور اس طرح جلسے کو جو اجتماعی کمیٹی ہے اس کے سامنے بھی یہ بات پیش کر دی جائے کہ ہم اس سال نماز کے قیام کے سلسلے میں یہ یہ اقدامات کریں گے۔خصوصیت کے ساتھ اس میں صبح کی نماز بہت اہمیت رکھتی ہے۔صبح کی نماز کے وقت حاضری ظہر یا عصر کی نماز سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہونی چاہئے کیونکہ انتظامات کے لحاظ سے سب سے کم دباؤ صبح کی نماز کے وقت ہوتا ہے اکثر انتظامات ابھی چل نہیں رہے ہوتے۔وہ جو رات کے وقت آرام کے لئے ٹھہرے ہیں وہ صبح کی نماز کے وقت ابھی دوبارہ اٹھ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع نہیں کرتے اور بہترین وقت ہے کہ نمازوں کی حاضری اس وقت سب سے زیادہ ہو لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ نمازوں کی حاضری اس وقت سب سے کم ہوا کرتی تھی۔لیکن جب مثلاً جرمنی میں بھی اور یہاں بھی توجہ دلائی گئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت نیک نتیجہ ظاہر ہوا۔کم اور زیادہ کی بحث میں ایک بات ہے جو پیش نظر رہنی چاہئے۔ظہر اور عصر اور مغرب کی نمازیں اس لئے زیادہ نمازیوں سے بھرتی ہیں کہ بہت سے بیرونی مہمان جو باہر ٹھہرے ہوئے ہیں یا مقامی لوگ جو باہر ٹھہرے ہوئے ہیں ان کو آنے کا موقع ملتا ہے۔اس لئے اس استثناء کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے اور میں جو بات آپ سے کہہ رہا ہوں اس کو پیش نظر رکھ کر کہ رہا ہوں۔یعنی اس غلط نہی میں مبتلا نہیں ہوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جتنی حاضری ہوتی ہے یعنی دو پہر وغیرہ کو اتنی ہی صبح ممکن ہے، یہ مکن نہیں ہے مگر جو موجود ہیں ان کے لحاظ سے میں یہ بات کر رہا ہوں۔تناسب کے لحاظ سے ان کی حاضری صبح گر جاتی ہے۔اس کی ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ جلسے کے دنوں میں مہمان دیر تک پھرتے یا آپس میں باتیں کرتے، مجلسیں لگاتے اور سمجھتے ہیں کہ جلسے کے مزے پورے لوٹنے میں