خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 502
خطبات طاہر جلد 13 502 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جولائی 1994ء زیادہ اہم ہے۔پس اس جلسے پر بھی نماز با جماعت کو قائم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔خود UK کی جماعت کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا کیونکہ یہاں ابھی بھی نئی نسلوں میں کچھ کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو عبادت کے لحاظ سے کافی توجہ طلب ہیں اور بہت سے شہر ایسے ہیں جہاں نو جوان رفتہ رفتہ اخلاص تو رکھتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کا اخلاص ابھی گہرے عمل کی صورت میں ڈھلا نہیں۔بہت اچھا موقع ہے کہ جلسہ پر ان کی تربیت کی جائے اور اخلاص کو جس طرح اعمال میں ڈھالنے کی ضرورت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور یہ فائدہ اٹھانے کے دن ابھی شروع ہو چکے ہیں۔اس لحاظ سے میں کہ رہا ہوں کہ آپ کی جتنی ٹیمیں وہاں خدمت خلق کے لئے پہنچتی ہیں ان پر ابھی سے نماز با جماعت کے قیام کی اہمیت واضح کرنا انتہائی ضروری ہے۔پانچوں وقت نمازیں وقت کے او پر باجماعت ادا ہونی چاہئیں اور تمام کام کرنے والے اپنے کام چھوڑ کر وقت پر نماز کے لئے حاضر ہو جایا کریں۔یہ چند دن جو ان کو تربیت کے ملیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں میں ایک نقش دوام کا کام کریں گے۔میں امید رکھتا ہوں کہ جو کچھ وہ سیکھیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر آئندہ بھی ان پر عمل جاری رکھیں گے۔پس یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ جلسے کی تیاری کے دوران بھی نماز با جماعت کے قیام کو اہمیت دی جائے اور جلسے کے دنوں میں بھی ان کے ذہنوں اور دلوں پر یہ بات اچھی طرح ثبت کر دی جائے کہ اس دوران بھی آپ نے نماز سے روگردانی نہیں کرنی۔وہ لوگ جو ا نتظاموں میں ایسے وقت میں مصروف ہوتے ہیں کہ مجبوری ہے اس وقت مہمانوں کا اتناز ور ہوتا ہے مثلا روٹی کی تقسیم، سالن کی تقسیم اور اس قسم کے کام ہیں کہ اس وقت فوری طور پر نماز باجماعت ادا نہیں کی جاسکتی۔ان کے افسران کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گزشتہ تجربے کی رو سے ابھی سے وہ پروگرام بنا ئیں اور جلسے کے پروگراموں میں ان پروگراموں کو مستقل جگہ دی جائے اور وہ اپنی اپنی امارتوں میں یہ با قاعدہ رپورٹ پیش کریں یا یوں کہنا چاہئے افسر جلسہ گاہ یا افسر جلسہ سالانہ کے سامنے با قاعدہ یہ رپورٹ بھی پیش کریں کہ ہم نے نمازوں کے متعلق یہ منصوبہ بنایا ہے، اس طریق پرس ہو گا۔ہمارے اتنے فیصد کارکنان با قاعده مرکزی با جماعت نماز میں حصہ لے سکیں گے اور اتنے فیصد کے لئے ہم نے اپنے تجربے کی رو سے یہ یہ وقت مقرر کئے ہیں۔اگر اس کو بھی آئندہ جلسہ سالانہ کے پروگراموں کا ایک