خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 489
خطبات طاہر جلد 13 489 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء۔آپ اس لائق نہیں ہوں گے کہ اس خَلْقًا آخَرَ کی تربیت کے دور میں داخل ہوں جس میں مومنوں کی ایک عظیم الشان اعلیٰ پائے کی تربیت شروع ہوتی ہے۔خونی رشتوں کے تعلقات کا حق ادا کرنے کے بعد پھر وہ بیرونی دنیا سے ویسے ہی تعلقات باندھتے ہیں۔پھر عدل، احسان میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔پھر احسان، ایتاء ذی القربی میں بدل جاتا ہے پھر ساری دنیا ایک ہی خاندان دکھائی دینے لگتی ہے اگر چہ بظاہر خون کے رشتے نہیں ہوتے۔اللہ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے اور حضوراکرم کے نقش قدم پر چل کر وہ اعلیٰ کردار اپنانے کی توفیق بخشے جس کی طاقت سے ہم نے تمام دنیا کے کردار کو بدلنا ہے اور محمدی کردار میں تبدیل کر دینا ہے۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضورانور نے فرمایا: دو اعلان ہیں جو خطبہ ثانیہ سے پہلے میں کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ ہے کہ جماعت انڈونیشیا کا جلسہ سالا نہ ہو رہا ہے انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کو بھی دوست اپنی دعا میں یاد رکھیں۔انڈونیشیا کی جماعت بھی بڑی مخلص اور فدائی اور مشکل حالات میں بھی ثابت قدم ہے اور کئی پہلوؤں سے دنیا کی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔سکنڈے نیوین ممالک کی تینوں ذیلی تنظیموں کا آج مشترکہ اجتماع شروع ہو رہا ہے اور یہ غالبا سویڈن میں ہوگا۔بروز ہفتہ لجنہ اماءاللہ۔ناصرات الاحمدیہ واشنگٹن ڈی سی کے مقامی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔ان سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ ہر پہلو سے ان اجتماعات کو بابرکت فرمائے۔ایک افسوسناک خبر ہے وہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی حضرت مولوی محمد حسین صاحب جو انگلستان کے جلسے میں بھی شرکت فرماتے رہے اور کثرت سے لوگ ان کو اس وجہ سے ملتے رہے نئی نسل کے لوگ کہ وہ تابعین میں شمار ہو جائیں اور ان کے پاس بیٹھے۔میں نے اپنے نواسوں کو اور نواسیوں کو ان سے اسی نیت سے ملایا تھا۔تصویر بھی کھینچی تھی تا کہ وہ کہ سکیں کہ ہم نے ایک صحابی کو دیکھا اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملایا۔تو یہ برکتیں بہت ہی کم رہ گئی ہیں اب۔اور مولوی محمد حسین صاحب کا تو اپنا ایک مقام ایک رنگ تھا سبز پگڑی والے کہلاتے تھے۔بچپن کے زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صندوق کی یا سیف کی چابی گم گئی تو آپ نے چابی بنوانے کے لئے بازار میں بھجوایا جہاں ان کے والد غالبا لوہارے کا کام کرتے تھے تو