خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد 13 482 خطبہ جمعہ فرموده 24 / جون 1994ء ہجرتیں کیں، نہ یہ کبھی سفر اختیار کئے۔اس لئے میں آپ کو بار بار ایک ہی بات کہتا چلا جا رہا ہوں۔اس لئے نہیں کہ گویا میں بھول گیا ہوں کہ میں نے کل بھی آپ کو یہی بات کہی تھی یا پرسوں بھی یہی بات کہی تھی۔میں اپنے لمبے تجربے سے اس بات پر گواہ بن گیا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے قراری کو آج پھر ہمارے ہر دل کو بے چین کر دینا چاہئے اس بے قراری کو ہمیں اپنا لینا چاہئے ، یہ مطلب ہے میرا اور ہمارے ہر دل کو لگ جانی چاہئے۔اس سے ہمارے اندر تربیت کے امکانات روشن ہوں گے اور اس کے نتیجے میں ہمارے اندر کا سویا ہوانفس بیدار ہوگا۔اب آپ یہ خطبہ سنتے ہیں یا پہلے بھی سنتے رہے ہیں۔اب گھروں میں جا کر وہی زندگی گزاریں جو پہلے تھی اور روز مرہ کی زندگی کو بیدار مغزی کے ساتھ دیکھیں نہ کہ ہم اپنے اندر کوئی پاک تبدیلی پیدا کر رہے ہیں کہ نہیں، تو یہ ساری باتیں بے کار جائیں گی اور پھر مجھے دوبارہ وہی کہنا پڑے گا کہ: وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے (درین صفحہ: 16) پس اخلاق حسنہ کی حفاظت کے لئے اپنے اندر ایک Consciousness ایک بیداری کا احساس پیدا کریں اور روز مرہ کے تعلقات سے یہ جائزہ لینا شروع کریں۔اس کے لئے کوئی رپورٹ لکھنے کی ضرورت نہیں۔کسی بیرونی مبلغ یا مربی کا آپ کے پاس آ کر آپ کے سوال و جواب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔آپ کا اپنا دل ہے۔آپ کو پتا ہے کہ آپ روز مرہ کی زندگی میں اپنے بھائیوں کے کتنے حق مارتے رہے ہیں اپنے عزیزوں کے کتنے حقوق ادا کرتے رہے ہیں یا ان سے غافل رہے ہیں یا چھوٹی سی بات پر غصے کے نتیجے میں آپ اپنی بیویوں پر کس کس طریق سے بھڑکتے رہے ہیں یا کمزوروں پر ہاتھ اٹھانے میں جلدی کرتے رہے ہیں یا اپنے سے کمزور بھائی یا بہن پر تمسخر کرتے رہے ہیں اور اسے اپنے سے حقیر جانتے رہے ہیں۔یہ سارے امور ایسے ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں کسی باہر سے آئے ہوئے مربی کے سمجھائے بغیر ہر انسان جانتا ہے، جان سکتا ہے۔بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيرَة القيامةۃ : 15,16 ) ہر انسان اپنے نفس کو خوب اچھی طرح جاننے کی صلاحیت رکھتا ہے خواہ ہزار عذر پیش کرتا رہے۔پس اپنے اخلاق حسنہ کو روزمرہ صلى الله کی زندگی میں سنواریں اور آنحضور ﷺ کے اخلاق کے جتنے حوالے میں نے دیئے ہیں انہیں پھر غور سے سنیں اور اپنے حالات پر ان کو چسپاں کر کے دیکھیں کہ کس حد تک آپ کو آنحضرت ﷺ سے محبت