خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد 13 455 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 / جون 1994ء اور اپنے عمل سے اس کی محبت کو سچا ثابت کر دیتا ہے یعنی حسین کے رنگ اختیار کرتا ہے وہی سنت اپنا لیتا ہے جو حسین کی سنت تھی۔فرماتے ہیں:۔کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی کے طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔“ کون کون سے ہیں؟ ایمان، اخلاق، شجاعت یعنی بہادری، تقویٰ یعنی خدا خوفی اور اپنی بات پر صبر کے ساتھ قائم ہو جانا اور کسی مخالفت کی پرواہ نہ کرنا یعنی استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش اپنے دل پر منعکس کرتا ہے اور انہیں اپنا لیتا ہے۔جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوب صورت انسان کا نقش اپنے اندر لے لیتا ہے۔یہ اپنے اندر لے لیتا ہے کے الفاظ پہلے گزر چکے ہیں اب میں نے وہی مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ دہرائے ہیں جو اس فقرے کے شروع میں تھے: یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے جو ویسا ہی دل رکھتا ہے ویسا ہی محبت الہی میں وہ پاک اور صاف کیا گیا ہے اور محبت کی آگ میں جلا یا گیا ہے وہی ہے جو ان لوگوں کے حالات کو جانتا ہے۔ان کے تجارب سے واقف ہے۔غیر کی آنکھ ، باہر سے دیکھنے والی ، اس کی حقیقت کو پہچان نہیں سکتی۔”دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی۔اب دیکھیں کیسا عظیم نکتہ ہے اور یہ محبت اور معرفت کی آنکھ سے ہی دکھائی دیتا ہے۔یہ مجلسوں میں پڑھا جانے والا نکتہ تو نہیں ہے۔فرماتے ہیں: یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔“ ایک سوسال کے شیعوں کے ماتم ایک طرف اور یہ فقرہ ایک طرف۔کیسی حقیقت کی روح پر انگلی رکھ دی ہے۔اس کی شہادت کی یہی وجہ تھی کہ حسین کو شناخت نہیں کیا گیا۔مگر افسوس کہ جیسا کہ وہ کل شناخت نہیں کیا گیا تھا ویسا ہی آج بھی شناخت نہیں کیا گیا، ورنہ حسین کے نام پر محمد رسول اللہ کے صلى الله عشاق سے نفرتوں کی تعلیم نہ دی جاتی اور محمد رسول اللہ ﷺ کے عشاق حسین کا عذر رکھ کر ان سے محبت کرنے والوں سے نفرت کی تعلیم نہ دیتے۔پس شناخت کا جہاں تک معاملہ ہے خدا کے پیارے تو