خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد 13 454 خطبہ جمعہ فرمود ه 17 / جون 1994ء آپ اہل سنت سے تعلق رکھتے تھے ، اہل تشیع میں شامل نہیں تھے اور مقام تو در حقیقت دونوں سے بالا تھا کیونکہ آپ نے حکم عدل کے طور پر دونوں کے درمیان فیصلے کرنے تھے۔پس آپ دنیا کے خوف سے بالکل مستغنی اور بالا تھے۔فرماتے ہیں:۔یزید ایک نا پاک طبع دُنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مؤمن کہا جاتا ہے وہ معنے اس میں موجود نہ تھے۔مومن بنا کوئی امرسہل نہیں ہے۔اللہ تعالے ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے:۔قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا ، مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں۔“ فرماتے ہیں:۔دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔مگرحسین رضی اللہ عنہ طاہر و مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے 66 اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے اور بلا شبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے۔“ وو یہ حضرت امام حسین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا موقف ہے اور ایک ایک لفظ بتا رہا ہے کہ سچے دل کی آواز ہے جو بے ساختہ اور بلا تکلف دل سے بلند ہو رہی ہے: سردارن بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔“ اب دیکھیں عملی رنگ نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔زبان کے دعوؤں کی بات نہیں ہورہی۔زنجیروں سے سینہ کوبی کی بات نہیں ہو رہی۔فرمایا ہے جو عمل سے اس سے محبت کرتا ہے