خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد 13 400 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء وہ ہے جو اندھیروں میں بھی اسی طرح روشن ہو جیسے روشنی میں روشن تر ہو جاتا ہے اور جگہ کے فرق سے اس کے اندر کوئی فرق نہیں پڑتا سوائے اس کے کہ وقت کے تقاضوں سے بعض دفعہ پہلے سے بڑھ کر وہ جوش دکھاتا ہے۔پس وہی خلیق ہے جو اپنے گھر میں خلیق ہو سبھی آنحضرت ﷺ نے اخلاق کا سفر گھر سے شروع کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔آنحضور ﷺ فرماتے ہیں خیر کم خیر کم لاھلہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہو۔وانا خیر کم لاهلی (ترندی کتاب المناقب ) اور میں تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہوں۔آنحضرت ﷺ کے خیر کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے لیکن گھر پر ختم نہیں ہو جاتا گھر سے شروع ہوتا ہے اور بازاروں میں پھرتا ہے، دوسروں کے گھروں تک فیض پہنچاتا ہے، تمام عالم آپ سے فیض یاب ہو جاتا ہے۔پس اپنے گھروں میں اپنے اخلاق درست کریں تو پھر آپ حقیقت میں بچے طور پر خلیق کہلا سکتے ہیں۔با اخلاق انسان کہلا سکتے ہیں اور اس کے بغیر آپ دنیا میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔میں نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی کہ گھر میں بداخلاقی کے بہت سے ایسے بدنتائج نکلتے ہیں جو نسلوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔باہر کی بد اخلاقی وقتی طور پر آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، آپ کے دین کو نقصان پہنچاسکتی ہے لیکن بات آئی گئی ہوگئی۔لیکن جو بد اخلاقی آپ گھر میں کرتے ہیں وہاں اپنی نسلوں کو بداخلاق بنا رہے ہوتے ہیں۔ایسی نسلیں پیچھے چھوڑ کر جارہے ہوتے ہیں جو سارے ماحول میں بدخلقیوں کے زہر گھلا دیتی ہیں اور پھر نسلاً بعد نسل آپ کی بداخلاقیوں کو آگے بڑھاتی چلی جاتی ہیں کیونکہ بدخلق ماں باپ کے بچے بسا اوقات، الا ماشاء اللہ سب کے سب بدخلق نکلتے ہیں اور جو شخص اپنے گھر میں اپنے باپ کو گندی زبان استعمال کرتے دیکھتا ہے وہ خود بھی ویسی ہی گندی زبان پھر دوسروں کے لئے استعمال کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ اپنے باپ کے لئے بھی وہ زبان استعمال کرتا ہے مگر دل میں کرتا ہے۔بہت سے ایسے نفسیاتی مریض میرے پاس آئے ہیں مثلاً ابھی کچھ عرصہ پہلے انگلستان میں ایک غیر مسلم خاتون تھیں بہت شدید نفسیاتی مرض میں مبتلا تھیں میرے پاس تشریف لائیں کہ میں تو سب ڈاکٹروں کے پاس پھر چکی ہوں میرا کوئی علاج نہیں اور میرا دل چاہتا ہے کہ خود کشی کر کے اپنے آپ کو ختم کرلوں۔میں نے کہا کیا بیماری ہے آپ کو۔کہنے لگیں کہ بڑے بُرے خیالات دل سے اٹھتے