خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 376

خطبات طاہر جلد 13 376 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مئی 1994ء گھر میں آ رہی ہیں اور وہاں ان کے پت جھڑ سے گند پڑتا ہے یا اس کی وجہ سے اور کچھ ان کے گھر کو شاید دھوپ میں کمی آجاتی ہے اور پڑوسی کہتا ہے کہ خبردار جو ان کو ہاتھ لگایا۔اب یہ کوئی انسانیت ہے۔میں اتنا شرمندہ ہوا پڑھ کے۔میں نے خواہ مخواہ امور عامہ اور نظارت اصلاح وارشاد کو ہلا کے رکھ دیا کہ آپ کو پتا ہی نہیں ربوہ میں کیا ہو رہا ہے۔جا کے دیکھیں تو سہی کیا کیا ظلم ہورہے ہیں۔جواب آیا تو یہ آیا۔اول تو اس کو اتنی تکلیف کیوں ہے۔اگر وہ شاخیں پڑتی ہیں تو صفائی کر لیا کرے۔اگر بداخلاق پڑوسی ہے تو اپنے اخلاق سے اس کا دل جیت لے لیکن اگر یہ نہیں تو پڑوسی کو بھی سوچنا چاہئے۔وہ درخت تو اللہ کا فیض ہے اس کی شاخوں سے اس کو چھاؤں ملتی ہے۔اس کے گھر کو ایک نعمت میسر ہے۔اگر یہ ہمسائے کے لئے وہ نعمت نہیں بنتی اور ہمسائے کو چڑانے کا موجب ہے تو کاٹ دیں ان شاخوں کو۔آپ دنیا کے معمولی آرام یا دنیا کی رعونت کی خاطر کہ میں اونچا نکلا ہوں میں نے ہمسائے کو نیچا کر دکھایا ، خدا کو ناراض کر رہے ہیں اور یہ آخرت کو بھول رہے ہیں۔یہ چھوٹے چھوٹے تعلقات جو تلخیوں میں بدلتے ہیں بعض دفعہ ان کے نتیجے میں بڑے بھیانک نتیجے نکلتے ہیں۔بعض بچے ہیں جو اپنے ماں باپ کو ہمسائے کے مقابلہ پر کمزور دیکھ کر بڑے سخت بد ارادے دلوں میں باندھتے ہیں۔ان کی نیتیں غالب ہو جاتی ہیں، وہ بدخلق بن کر اٹھتے ہیں اوپر اور کہتے ہیں کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو ہم اس طرح ان لوگوں سے بدلے لیں گے تو ان باتوں کو چھوٹا نہ سمجھیں۔یہ ہمسائیگی کی بد اخلاقیاں آپ کی نسلوں کو تباہ کرتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ جو فرماتے ہیں کہ دیکھو ہمسائے کو تکلیف نہ دینا تم پوچھے جاؤ گے۔قیامت کے دن یہ باتیں بھلائی نہیں جائیں گی بلکہ تمہارے حساب تمہارے کھاتوں میں لکھی ہوئی دکھائی دیں گی۔پھر فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لاتا ہے، اپنے مہمان کا احترام کرے۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔مہمان کا احترام آپ سمجھتے ہیں کہ خود بخود ظاہر ہونے والا خلق ہے۔اس میں نصیحت کی کیا ضرورت تھی۔جو مہمان نواز ہیں وہ مہمان نوازی کرتے ہیں ، جو مہمان نواز نہیں وہ نہیں کرتے۔لیکن اکثر انسانوں میں مہمان نوازی پائی جاتی ہے۔جس مہمان نوازی کی محمد رسول اللہ یہ بات فرمارہے ہیں وہ یہ عام مہمان نوازی نہیں اس کا بھی تعلق اسی آیت سے ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِيْنَا وَ يَتِيما و اسیرا وہ اللہ کی محبت کی خاطر،