خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد 13 375 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مئی 1994ء بطور تنبیه اشارہ فرما دیا گیا ہے اللہ نے جو کچھ عطا کیا اگر اس کے بعد انسان مرکھپ کر مٹی ہو جائے تو بے شک اس سے بے پروائی کرتا پھرے اس کو کوئی بھی فکر نہیں ہو سکتی۔ایک انسان پر آپ جتنا بھی احسان کر لیں بالآخر اگر اس نے آپ کے سامنے پیش نہیں ہونا تو وہ بے شک احسان فراموشیاں کرے اس کو کیا فرق پڑتا ہے۔تو یہ وجہ ہے کہ آخرت کا مضمون ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے۔یہ تو ٹھیک ہے نعمتوں سے تم غافل ہو جاؤ گے اور شاید سمجھو کہ کیا فرق پڑتا ہے لیکن اگر کوئی شخص خدا کی نعمتوں پر بھی نظر رکھتا ہو اور آخرت کے دن پر بھی نظر رکھتا ہو یا کہہ دیں کہ اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور آخرت کے دن پر نظر رکھتا ہوتو اللہ (دیوان غالب: 48) کی نعمتوں سے غافل ہو ہی نہیں سکتا۔کیونکہ اس کو یہ پتا ہے کہ یہ دینے والا ، حساب لینے والا بھی ہے۔جو کچھ اس نے عطا کیا ہے ایک ایک چیز کا حساب لے گا۔جیسا کہ غالب نے کہا ہے۔ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب خون جگر ، ودیعت مژگانِ یار تھا یوں کہ میرے دل کا جو خون ہے جگر کا جو خون ہوا ہے، میرے محبوب کی پلکوں کی چبھن سے ایک ایک قطرہ کر کے رسا ہے اس میں سے اور چونکہ میرے محبوب کی ودیعت ہے اس لئے ایک ایک قطرے کا حساب دینا پڑا۔یہ تو محض شاعری ہے مگر اگر حقیقت ہے تو وہ حقیقت ہے جو محمدرسول اللہ ﷺو بیان فرمار ہے ہیں۔خدا کی نعمتوں کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا اور وہ حساب اس رنگ میں نہیں ہوگا کہ تم نے مجھے کیا دیا۔اس رنگ میں ہو گا کہ میرے بندوں کو تم نے کیا دیا۔جو کچھ حاصل کیا اس سے غیروں کو کیا فیض پہنچایا۔پس اس لئے آنحضرت کے بار بار یہ فرمارہے ہیں کہ جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ یعنی وہ سچا مومن اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔یعنی پڑوسی کی تکلیف کے معاملے میں بھی تمہارا مواخذہ ہوگا اور کئی شکایتیں ملتی ہیں میں حیران رہ جاتا ہوں۔ایک شخص نے مجھے دعا کے لئے لکھا کہ بڑا سخت پریشان ہوں پڑوسی سے متعلق۔تو میں ڈر گیا، میں نے کہا پتا نہیں کون سی آفت آئی ہے۔میں نے وہاں لکھا نظارتوں کو کہ فوری طور پر تحقیق کریں کہ کیا شر ہے جو اس کو پہنچ رہا ہے، اتنا بڑا فساد کیوں برپا ہو گیا۔تو پتا یہ لگا کہ پڑوسی کے درخت کی کچھ شاخیں اس کے