خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد 13 358 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء کھلائیں، اتنا متاثر ہوا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسے واقعات بھی اس دنیا میں ہو سکتے ہیں۔یہ خود گھر پر چل کر شکر یہ ادا کرنے کے لئے آیا اور پھر تبلیغ کی ساری باتیں سنیں، دلچسپی لی ، کتا میں مانگیں اور اب پورا تبلیغ کا سلسلہ اس کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا گھر بھی اعلیٰ الله خلق سے جیتے جائیں گے، دنیا بھی اعلیٰ خلق سے ہی جیتی جائے گی اور آنحضرت ﷺ نے جو طریق ہمیں سمجھائے ہیں وہ ضرور دلوں کو فتح کرنے والے ہیں۔پھر حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہے۔آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ کون مومن نہیں ہے۔آپ نے فرمایا وہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور اس کے اچانک واروں سے محفوظ نہ ہو۔( بخاری کتاب الادب حدیث : 5557) اب یہ جو بات ہے یہ آج کل ایک بیماری بن گئی ہے کہ پڑوسیوں سے جھگڑے اور یہ بیماری مغرب میں زیادہ نہیں پائی جاتی ،مشرق میں زیادہ پائی جاتی ہے اور یہاں بھی جو پڑوسیوں کے جھگڑے ہیں الا ما شاء اللہ۔کبھی کبھی دوسرے پڑوسیوں سے بھی جھگڑے چلتے ہیں مگر اس کی وجہ کچھ اور تعصبات ہوتے ہیں۔روز مرہ کی زندگی میں انگلستان میں یا جرمنی میں پڑوسی پڑوسی سے جھگڑتا نہیں۔کوئی واسطہ ہی نہیں رکھتا اس کی اپنی دنیا ہے۔جہاں جھگڑے چلیں گے وہاں عام طور پر دیس ازم یا اس قسم کے بعض دوسرے عناصر ہیں جو عمل دخل دکھاتے ہیں ورنہ عام طور پر جھگڑے نہیں چلتے۔ہمارے ملک میں جہاں پڑوسی سے حسنِ سلوک کا رجحان بھی پایا جاتا ہے وہاں جھگڑنے کا بھی بہت رجحان پایا جاتا ہے اور بعض دفعہ پڑوسیوں میں بڑی سخت تو تو ، میں میں ہوتی ہے۔لاہور میں تو ایک دفعہ ایک محلے میں میں گیا تھا بچپن میں ، تو وہاں پتا چلا کہ پڑوسیوں کے جھگڑے کئی کئی دن بعض دفعہ مہینوں چلتے ہیں اور وہ گالیاں دے دے کر ایک دوسرے کو پھر پرات الٹ کے عورتیں چلی جایا کرتی تھیں کہ اب ہم دوبارہ آئیں گی تو پرات الٹ کے پھر تمہیں باقی گالیاں دیں گی۔ہمارے ملک خدا بخش صاحب جو ملک عطاء الرحمن صاحب کے والد ہیں ان کے ہاں میں گیا تھا ایک دفعہ بچپن میں ، جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو ان کے پڑوس میں یہ قصے چل رہے تھے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے تو میں حیران رہ گیا میں نے کہا یہ کیا ہو گیا انہوں نے کہا یہ تو روز مرہ کی بات ہے یہ تو کوئی حیرانی کی بات ہی نہیں ، سارا محلہ اس طرح چل رہا