خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 357

خطبات طاہر جلد 13 357 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994 ء حسنِ سلوک کی تاکید کرتا آ رہا ہے یہاں تک کہ مجھ خیال ہوا کہ کہیں وہ اسے وارث ہی نہ بنا دے۔(بخاری کتاب الادب حدیث نمبر : 5555) پڑوسی کے ساتھ اتنا حسن سلوک کہ فرمایا مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آئندہ کبھی آئے تو وارث ہونے کی تعلیم بھی دے دے کہ پڑوسی کو خدا تعالیٰ نے تمہارے اموال میں وارث قرار دے دیا ہے اور یہ وہ رشتہ ہے جس میں مذہب کا اور خون کا کوئی تعلق نہیں ہے۔قرآن کریم میں فرمایا وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبى جو قریبی ہیں اقرباء پڑوسی ہیں ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔لیکن جو بے تعلق ہیں ان کے ساتھ بھی برابر حسن سلوک کرنا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو مغرب میں بہت کم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں پڑوسی بعض دفعہ اس طرح ساتھ ساتھ رہتے ہیں کہ سالہا سال گزر جاتے ہیں اور کسی کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی۔وہ کون ہے کہاں سے آیا۔پھر چلا گیا تو کہاں چلا گیا ؟ اور لوگ یہ بات پسند بھی نہیں کرتے مگر آنحضرت ﷺ نے جس رنگ میں پڑوسی سے تعلق کی ہدایت فرمائی ہے اس کے پیش نظر یہ تعلقات اجنبی ہونے کی بجائے پسندیدہ ہو سکتے ہیں اور ان پڑوسیوں میں بھی جو اسلام کی روح سے نا آشنا ہیں ان میں بھی اسلام کے حسن کے ذریعہ ان کے دلوں کو فتح کیا جاسکتا ہے۔آنحضور نے ایک موقع پر ہدایت فرمائی کہ بہتر ہے کہ ایک عورت اپنے شور بے کو ذرا لمبا کر لے یعنی کھانا پکا رہی ہے تو تھوڑا سا اور پانی ڈال لے تا کہ ہمسائے کو بھی کچھ پہنچا سکے۔(مسلم کتاب البرصلہ حدیث نمبر: 4759) اب یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر آپ پڑوسی کے معاملات میں ویسے دخل دیں اور کھڑے ہو کے اس سے باتیں کرنا شروع کریں تو کم سے کم انگریز مزاج تو اس کے خلاف بھڑ کے گا اور بالکل پسند نہیں کرتا کہ آپ آتے جاتے اس کو چھیڑریں، اسے سلام دعا کریں اور کھڑے ہو کر بعض دفعہ باتیں کرنے کی کوشش کریں یا پوچھنے لگ جائیں تم کون ہو لیکن اگر اسے کوئی تحفہ پہنچا دیں کہ آج ہمارے گھر میں یہ پکا ہے اور ہم نے چاہا کہ تمہیں بھی شریک کریں تو ہر گز اس کے خلاف کوئی بدرد عمل نہیں ہوگا بلکہ غیر معمولی طور پر ایسے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔مجھے جرمنی سے ایک خاتون نے خط لکھا جن کے ہمسایوں سے بہت اچھے تبلیغی مراسم مضبوط ہونے لگ گئے، قرار پا گئے اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ایک موقع پر کوئی چیز انہوں نے پکائی تو اپنے ہمسائے کو بھجوا دی یہ کہہ کر کہ یہ ہمارا پاکستانی طرز کا کھانا ہے۔میں نے سوچا کہ آپ کو بھی