خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد 13 354 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 رمئی 1994ء ہے اور احسان نا انصافی پر مبنی ہو ہی نہیں سکتا۔اس راز کو سمجھیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ماں باپ سے احسان کرو لیکن ماں باپ سے احسان یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی اور سے نا انصافی کرو کیونکہ کوئی احسان نا انصافی کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔اگر بیوی سے نا انصافی کی بنیاد پر ماں باپ کا احسان قائم ہوتا ہے تو اس آیت کریمہ کے مضمون کو جھٹلانے کے بعد، رد کرنے کے بعد ایسا ہوسکتا ہے اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یادرکھیں احسان اور عدل کا یہ جو تعلق ہے یہ قرآن کریم نے بار ہا کھولا ہے اور تمام تعلیمات میں یہ تعلق بہت نمایاں ہو کر دکھائی دیتا ہے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُربى اللہ پہلے عدل کا حکم دیتا ہے پھر احسان کا حکم دیتا ہے۔جس نے عدل نہیں کیا اس نے احسان نہیں کیا اور احسان کے بعد پھر ایتَائِ ذِي الْقُرْبی کا مقام ہے یعنی اس طرح دو جیسے وہ تمہارے اپنے ہوں اور وہاں احسان کا لفظ ہی بے تعلق دکھائی دینے لگے۔تو اس لئے میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ اکثر مجھے اس قسم کے خط ملتے رہتے ہیں کبھی بچیوں کی طرف سے، کبھی ماں باپ کی طرف سے، کبھی لڑکوں کی طرف سے اور وہ پوچھتے ہیں کہ ماں باپ کے حق میں کیا کیا بات داخل ہے۔ابھی پاکستان سے ایک نواحمدی خاتون کا خط بھی ملا ہے وہ لکھتی ہے کہ ماں باپ کے احسان پر قرآن کریم نے بہت زور دیا ہے یعنی ان کے حقوق ادا کرنے پر بہت زور دیا ہے اور میری احمدیت ان پر اتنی شاق گزر رہی ہے کہ بعض دفعہ مجھے لگتا ہے کہ شاید ماں باپ کا حق ادا نہیں کر رہی اور گناہ کر رہی ہوں۔ان کو تو میں نے سمجھانے کا خط لکھا ہے تاریخ کے حوالے سے۔اس ماں کے حوالے سے جس نے اپنے بچے کے اسلام پر اتنی تکلیف محسوس کی تھی کہ ایک موقع پر اس نے کہا اے بیٹے میں تجھے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔میں حسرت کے ساتھ مروں گی اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ترے دل پر یہ داغ لگا ر ہے گا کہ میں نے ماں سے بدسلوکی کی تھی اور مجھ سے ناراض گئی۔الفاظ یہ نہیں تھے مگر مضمون یہی تھا جو ماں نے ادا کیا۔اس وقت اس کے بیٹے نے کیسی حکمت کی بات کی اور کیسی عقل کی اور کیسی عارفانہ بات کی۔اس نے کہا تو مجھے بہت پیاری ہے کوئی اور چیز دنیا میں مجھے اتنی پیاری نہیں مگر ایک یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور میرا خدا۔پس اگر تو کہتی ہے کہ اللہ اور رسول کو تیری خاطر چھوڑ دوں اور یہ ڈرا وا دیتی ہے کہ میں اس حالت میں مروں گی کہ تیرے گناہ نہیں بخشوں گی تو پھر اے ماں ! میرے سامنے سو جانیں تیری سسکتی ہوئی نکل جائیں مگر میں خدا کی قسم محمد رسول اللہ ﷺ اور اپنے خدا کو نہیں چھوڑوں صلى الله