خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد 13 353 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء یہ بات جو میں بیان کر رہا ہوں یہ حقیقت ہے یہ کوئی ملمع کاری نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے انہی معنوں میں اس مضمون کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا۔جب فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے ناراضگی کا اظہار فرمائے گا اور اس رنگ میں ان سے باتیں کرے گا کہ دیکھو جب میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، جب میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، جب میں نگا تھا تو نے مجھے کپڑے نہیں پہنائے ، جب میں بے گھر تھا مجھے گھر مہیا نہ کیا۔ہر دفعہ بندہ یہ سن کر کہے گا کہ اے خالق و مالک ! میں محتاج ہوں تو تو محتاج نہیں۔تو کب پیاسا تھا جب کہ میں نے تجھے پانی نہیں پلایا تو کب بھوکا تھا جب میں نے تجھے کھانا نہیں کھلایا۔تو ہر دفعہ اللہ یہ جواب دے گا جب میرا ایک بندہ پیاسا تھا اور تو نے اسے پانی نہیں پلایا تو تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔جب میرا ایک غریب بندہ بھوکا تھا اور تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تو گویا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔اللہ کی عظمتوں کا کوئی حساب نہیں ہے وہ بھی اپنے لئے عاجزی کے رنگ ڈھونڈھ لیتا ہے حالانکہ ہر قسم کے عجز سے پاک ہے۔تو اس آیت میں یہی مضمون ہے کہ اصل تو خدا کا احسان ہے مگر خدا کا احسان تم خدا پر اتار نہیں سکتے۔خدا کے احسان کی یاد میں میرے بندوں سے احسان کا سلوک کرو اور ان میں سب سے پہلے ماں باپ کا حق ہے۔سب سے پہلے سر فہرست ماں باپ کو بیان فرمایا۔اب ماں باپ سے متعلق بدقسمتی سے آج کل جو نیا زمانہ ہے اس میں ان کی طرف کم سے کم توجہ رہ گئی ہے۔مشرق میں بہت سی جگہوں پر ابھی تک یہ قدریں باقی ہیں لیکن مغرب میں تو تیزی سے یہ اعلیٰ قدریں مٹتی چلی جارہی ہیں اور مشرق میں بھی بہت ایسے درناک اور تکلیف دہ واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ نئی نسلیں اپنے ماں باپ کے تقاضے پورے نہیں کرتیں۔یہ وہ مسائل ہیں جو جماعت احمدیہ کے سامنے بھی وقتا فوقتا آتے رہتے ہیں اور یہ مسائل ایسے ہیں جو ایک طرف کے نہیں دوسرے طرف کے بھی ہیں اور ان دونوں کے درمیان توازن رکھنا بے حد ضروری ہے۔یہ بات سمجھا کر پھر میں چند احادیث آپ کے سامنے رکھوں گا۔توازن اس لئے کہ ماں باپ کے احسان کے نام پر بعض دفعہ بچے ماں باپ کی طرف اتنا جھکتے ہیں کہ بیوی بچوں سے انصاف کے تقاضے بھول جاتے ہیں مگر ان کو یہ یاد نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کا لفظ استعمال فرمایا