خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد 13 348 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے یہ بتایا کہ وہ آیات تو سورۃ الحجرات کی تھیں لیکن لکھنے والے نے غلطی سے حوالہ سورہ تحریم کا درج کر دیا تھا کیونکہ یہ حوالے کی غلطی ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ تمام سننے والے جنہوں نے ریکارڈ بھی کیا تھا خصوصیت کے ساتھ ریکارڈ میں یہ درستی کر لیں۔آیات وہی ہیں، آیات میں غلطی نہیں ہے مگر حوالہ غلط بھی نامناسب بات ہے اور یہ کتابت کی غلطی تھی جس نے بھی حوالہ درج کیا غلطی سے اس سے ایک اور سورۃ کا نام لکھا گیا تھا۔یہ جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان کے مضمون پر گفتگو سے پہلے میں آج بھی کچھ اجتماعات کا اعلان کرتا ہوں۔تین ہیں آج کے اجتماعات۔ایک تو جماعت احمد یہ جاپان کی مجلس شوری کل چودہ مئی سے شروع ہو رہی ہے۔دو دن جاری رہ کر 15 مئی کو اختتام پذیر ہوگی۔جماعت احمد یہ جاپان اگر چہ تعداد میں بہت چھوٹی ہے مگر اللہ کے فضل سے کاموں میں اور حو صلے میں بہت بلند ہے اور اب تک مسلسل ان کے اندر استقلال سے نیکیوں کو چھٹنے کی صفت ایسی ہے جو نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے باوجود اس کے کہ جاپان میں آکر پناہ ڈھونڈنے والے یا کام تلاش کرنے والے احمدی تھے جو واپس چلے گئے اور تعداد میں کمی آئی مگر ان کی قربانیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔پس اللہ ان کو ہمیشہ اپنی راہنمائی ، اپنی حفاظت میں رکھے اور ہمیشہ ان کا قدم آگے بڑھاتا رہے اور جو کمی ، جانے والوں کے نتیجہ میں آئی ہے وہ نئے آنے والوں کے ذریعے پوری فرمائے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر پوری فرمائے۔نئے آنے والوں سے میری مراد تبلیغ کے ذریعے آنے والے ہیں اور جاپان کی جماعت صرف مالی قربانی میں نہیں بلکہ تبلیغ کے معاملے میں بھی خدا کے فضل سے بڑی مستعد جماعت ہے اور ابھی دو تین دن کی ڈاک میں بعض دوستوں نے اطلاع دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی تبلیغ کو پھل لگے ہیں اور یہ زمانہ تبلیغ کے پھلوں کا زمانہ ہے اور ہر طرف بہار آ رہی ہے اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ جاپان بھی اس الہی بہار سے بھر پور حصہ لے گا۔جاپان میں یہ مشکل ہے کہ تعداد کے مقابل پر اور نفوس کے لحاظ سے جماعت احمد یہ بہت تھوڑی ہے، نہ ہونے کے برابر ہے اور بہت دیر بعد جاپان میں کام شروع ہوا۔شروع میں تو اس کام کا کوئی نتیجہ نکلا ہی نہیں یعنی سالہا سال تک ہمارے مبلغ پیغام دیتے رہے مگر وہ ماحول اتنا مختلف ہے کہ ان کے ہاں روحانی قدروں کا کوئی تصور ہی نہیں اس لئے جاپان میں کوئی بھی کوشش کارآمد نہ ہوئی لیکن جب خدا کے فضل سے بعض مخلص غیر مبلغ لوگ وہاں پہنچے