خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 320
خطبات طاہر جلد 13 320 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء نے حق دیا ہے کہ اگر کوئی اسلام کے خلاف بات کرتا ہے اور تمہارے پاس طاقت ہے، تلوار ہے تو تلوار چلا دو۔اگر پتھر ہے تو پتھر مارو اور جس طرح بھی بن پڑے زبر دستی نمازیں پڑھا دو۔زبر دستی بعض بدیوں سے روکو اور جبر کی حکومت رائج کر دو۔یہ تلقین اتنی عام ہو چکی ہے اور ایسے ظالمانہ طور پر خصوصًا پاکستان کا مزاج بگاڑ رہی ہے کہ اس کے تصور سے بھی انسان کا دل دہلتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا۔ابھی چند دن پہلے ایک خبر آئی کہ کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہ کام کرو تو اس نے کہا میں تلاوت کر رہی ہوں اس کو اتنا غصہ آیا ، وہ خود حافظ قرآن تھا کہ اس نے قرآن کریم جلا دیا یعنی کہا گیا قرآن کریم جلا دیا تو اس پر شور پڑ گیا سارے شہر کی مساجد سے اعلان ہوا کہ بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے اٹھو اور اس شخص کو سزا دو۔یہاں تک کہ اس کی طرف جب بڑھے ہیں اس سے پہلے پولیس کی تحویل میں وہ آچکا تھا اور حملہ آوروں نے پولیس سے اس کو چھینا، پہلے اس پر پتھر برسائے اور پھرا بھی جان باقی تھی کہ زندہ آگ میں جلا دیا اور اس طرح انہوں نے قرآن کی عزت قائم کی۔اس کے پیچھے یہی جھوٹا اور غلط تصور ہے جس کا کوئی اشارہ بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اپنی پاک زندگی میں نہیں ملتا۔یہ عجیب باتیں محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں جنہیں اول انسانی فطرت دھکے دیتی ہے اور نفس کی شرافت کسی طرح قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور دوسری طرف حضرت محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ پر نگاہ ڈالیں تو ایک بھی واقعہ ایسا آپ کی زندگی میں دکھائی نہیں دیتا کہ اپنے اس ارشاد کا یہ مطلب سمجھتے تھے جو ملاں آج دوسری دنیا کو سمجھا رہا ہے۔وہ واقعہ ہو گیا اور پھر دو تین دن کے بعد خبر شائع ہوئی کہ اس کی بیوی نے بیان دیا ہے کہ بالکل جھوٹ ہے، ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔صرف بات یہ ہوئی تھی کہ وہ بے چارہ چائے بنارہا تھا، پاس قرآن کریم رکھا تھا، پانی ابلا اور قرآن پر ابلتا ہوا پانی پڑ گیا۔وہ سمجھا کہ مجھ سے گناہ ہو گیا ہے۔اس نے کہا ہائے مجھ سے قرآن جل گیا اور وہ بات بیوی نے شاید کسی ہمسائی کو بیان کر دی ہو گی یا آگے چل پڑی تو بات کہیں سے کہیں جا پہنچی۔پولیس آئی ، اس کو زبر دستی پکڑ کے لئے گئی اور پھر اسے اس MOB کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے اس کی Lynching کی ہے۔اب یہ باتیں اگر محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب کر کے کی جائیں تو یہ اور بھی زیادہ بھیانک ہو جاتی ہیں، یہ کیسی بد بختی ہے کہ ایسی بہیمانہ حرکتوں کا منبع حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو بیان کیا جائے۔اس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا کہیں محمد رسول اللہ ہے کی