خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد 13 286 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء نے شوری کی بات نہیں مانی، اپنی تسلیم کروائی ہے، وہ ہمیشہ کے لئے خلافت کی تائید میں ایک زندہ ثبوت بن گئے کہ وقت نے ثابت کیا کہ وہی بات درست تھی اور اکثریت کے فیصلے غلط تھے۔یہ ہے مجلس شوریٰ اور اس روح کو قائم رکھنے کے لئے آپس کا اعتماد ضروری ہے، یہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔اگر یہ آپس کا اعتماد نہ ہوتو یہ ہو ہی نہیں سکتا اکثریت چھوڑ کر اگر ایک آدمی زائد بھی کسی ایسی پارٹی کے ساتھ ہو جس کا فیصلہ رد ہوتا ہے، تو دیکھیں کیسی قیامت آ جاتی ہے کہ ہمارے اکتیس ممبر تھے تمہارے تمیں تھے اس لئے اکتیس کی بات مانی جائے گی تیس کی نہیں مانی جائے گی اور اگر کوئی اس کے خلاف فیصلہ دینے کی جرات کرے تو دیکھیں کیسی کیسی قیامتیں ٹوٹیں گی۔مگر ایسے فیصلے بھی ہوئے ہیں آنحضرت ﷺ کے زمانے صلى الله الله میں بھی، بعد میں بھی اور ہم نے خلافت کے دور میں جو مجلس شوری دیکھی اس میں، تو بار ہا تو نہیں ،مگر کئی دفعہ ایسادیکھا ہے، کہ ساری شوری کی ایک رائے اور خلیفہ وقت کی دوسری اور وہی رائے درست نکلی۔تمام صحابہ کی ایک رائے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی دوسری اور وہی رائے درست نکلی۔ایک وہ موقع تھا صلح حدیبیہ کا جبکہ حدیبیہ کے میدان میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا فیصلہ یہ تھا کہ چونکہ راستہ محفوظ نہیں ہے اور قرآن کی رو کے منافی ہے کہ حج غیر محفوظ رستے پر بھی کیا جائے۔آپ نے فرمایا حج نہیں ہوگا، یہیں قربانیاں دو اور سارے صحابہ بلا استثناء، متفق ہی نہیں، زور دے رہے تھے، جوش دکھا رہے تھے کہ نہیں ہم نے حج ضرور کرتا ہے، آپ نے کسی کی نہیں سنی۔(بخاری حدیث نمبر :4178) وہی فیصلہ صادر فرمایا اور تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے فیصلے کو حیرت انگیز برکت نصیب ہوئی ہے اور صلح حدیبیہ ہی کے موقع پر فتح مکہ کی بنیاد ڈالی گئی ہے اور اس موقع پر جو سورۃ نازل ہوئی ہے اس میں یہ خوشخبری دے دی گئی تھی کہ ایک فتح نہیں، ہم تجھے دوسری فتح کی بھی خوشخبری دے رہے ہیں، تو نے خدا کی خاطر اپنا سر جھکا دیا اور گویا کہ انسان ہر دفعہ اپنی ہی شکست تسلیم کرتا ہے۔سورۃ فتح کا مضمون یہ ہے کہ تو نے خدا کی خاطر اپنی شکست تسلیم کر لی اس لئے خدا تجھے فتح پر فتح دے گا۔یہ بظاہر کمزوری کی صلح بھی ترے لئے طاقت کا موجب بنے گی اور پھر ایک اور فتح بھی ہے جو اس کے بعد آنے والی ہے۔پس دیکھیں ایک شخص کا فیصلہ تھا، تو کل علی اللہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اللہ تو کل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور جن سے محبت کرتا ہے پھر ان کے خلاف کوئی سازش کا میاب نہیں ہونے دیتا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے زمانے میں بھی ہم نے یہی دیکھا کہ جب آپ فیصلہ شوریٰ