خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد 13 237 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء ہے جو خون کے اندر جاری ہونے لگے، جو دل کے اندر دھڑ کنے لگ جائے ، جو دماغ کی سوچیں بن جائے، یہ وہ ذکر الہی ہے جس کی طرف میں آپ کو بلا رہا ہوں۔اگر آپ یہ ذکر کریں اور اس ذکر کو جاری رکھیں تو تمام بنی نوع انسان کے لئے آپ کے دل سے محبت کے چشمے پھوٹیں گے، آپ ان کو اس طرح دیکھیں گے جیسے خالق پیار کی نظر سے اپنی مخلوق کو دیکھتا ہے۔ان کی ایسے بھلائی چاہیں گے جیسے خالق اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے۔اس بھلائی چاہنے میں آپ کو مخالفت کا بھی سامنا ہوگا اور یہ وہ مضمون ہے جسے میں آپ کے دلوں میں جاگزیں کرنا چاہتا ہوں۔اللہ جب بھی بنی نوع انسان سے بھلائی کے تقاضے کرتا ہے تو اس کی ضرور مخالفت ہوتی ہے۔اس مخلوق سے محبت کرتا ہے جو اس سے دور بھاگ رہی ہوتی ہے۔پس آپ کے لئے وہ مخلوق اپنے شیوے تو تبدیل نہیں کرے گی۔اس کے تو وہی لچھن ہوں گے جو ہمیشہ سے اپنے خالق کے مقابل پر اس نے اختیار کئے رکھے اور جب اللہ کی طرف سے اس کے پاک بندے رسول بنا کر بھیجے جاتے ہیں تو ان سے جو سلوک ہوتا ہے وہ اللہ ہی سے سلوک ہوتا ہے۔پس مخلوق سے تعلق آسان نہیں ہے۔خالق سے تعلق بہت آسان ہے لیکن یہ تعلق جب مخلوق کے تعلق میں ڈھلتا ہے تو طرح طرح کے دکھ اس راہ میں اٹھانے پڑتے ہیں۔چنانچہ ایک موقع پر قرآن کریم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے دکھ پر نظر کر کے فرماتا ہے یعنی اللہ فرماتا ہے قرآن کریم میں یہ آیت موجود ہے کہ یہ ظالم تجھے دکھ نہیں دے رہے یہ تو اللہ کو دکھ دیتے پھرتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ اصل مقصد ان کا خدا کی دشمنی ہے۔تو چونکہ میری طرف سے نمائندہ بنادیا گیا ہے اس لئے خدا کی دشمنی تیری دشمنی کے بغیر الگ ممکن ہی نہیں رہی۔پس ذکر الہی آپ کو جن راہوں کی طرف بلا رہا ہے اس میں ایک راہ آسان ہے کیونکہ وہ محبت کی راہ ہے، اس راہ سے اللہ ملے گا اگر وہ محبت کی راہ بنی رہے۔جس راہ پر وہ راہ آپ کو ڈالے گی وہ غیر کی طرف سے دشمنی کی راہ ہے اور آپ کی محبت کی آزمائش کی راہ ہے۔اس محبت کی آزمائش کی راہ پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس طرح سفر کیا کہ اپنے دکھ دینے والوں کے لئے اس غم میں اپنے آپ کو ہلکان کرتے رہے کہ یہ ظالم ہلاک نہ ہو جائیں۔پس یہ ہے وہ خالق اور مخلوق کا تصور جو حضرت اقدس محمد مصطفی میں لے کے اپنے خالق سے تعلق اور اس کے بعد خدا کی مخلوق سے تعلق کی صورت میں ہمارے سامنے ظاہر ہوا ہے۔اس ضمن میں یہ تمام میرے خطبات ہیں کہ ذکر الہی اختیار