خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد 13 219 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994ء محبت ہے جس سے تمہیں محبت ہے اور یہ ایک طبعی محبت کا تقاضا ہے کوئی بیرونی حکم نہیں ہے۔اگر اس کو نہیں سمجھو گے تو ضائع ہو جاؤ گے اور رفتہ رفتہ تمہار ا رخ پلٹنے لگے گا۔حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں۔یہ روایت مجمع البیان فی تفسیر القرآن سے لی گئی ہے زیر تفسیر سورۃ الجمعہ۔" جس نے خدا کو بازار میں یاد کیا جبکہ لوگوں کو ان کی تجارت اور دیگر کاموں نے خدا سے غافل کر دیا ہو اس شخص کے لئے ہزار نیکی لکھی جائے گی اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ایسی بخشش کا سلوک فرمائے گا جس کا خیال بھی کسی دل پر نہیں گزرا۔اس حدیث کا مضمون چونکہ اس آیت کریمہ سے وابستہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے اس لئے قطع نظر اس کے کہ یہ کتاب نسبتا ثانوی حیثیت کی معتبر کتاب ہے یا اس کے راوی مضبوط ہیں کہ نہیں یہ بنیادی اصول تسلیم کے لائق ہے کہ جس حدیث نبوی کی بنیاد کسی قرآنی آیت میں دکھائی دے جائے اس کو یہ کہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا راوی کمزور ہے اور اس حدیث کی تو بڑی کھلی کھلی بنیاد اس آیت کریمہ میں نظر آ رہی ہے۔بازاروں میں جبکہ تجارت کا ماحول ہے لوگ جو بازار میں سودا خرید نے جاتے ہیں کم ہی ہوں گے جنہیں خدا یاد آتا ہوگا۔عورتیں ہیں ان کو کسی اور عورت کے کپڑے یاد آ رہے ہوتے ہیں کہ ایسی چیزیں میں نے وہاں دیکھی تھیں اگر وہ فرنیچر کی دکان میں ہیں تو کسی کے گھر کا فرنیچر یاد آ رہا ہوتا ہے کہ اتنا اچھا ہم نے وہاں دیکھا تھا اس سے بڑھ کر خوب صورت چیز خریدیں۔غرضیکہ ہر شخص کو اپنے اپنے ذوق کے مطابق کچھ چیزیں ضرور یاد آتی ہیں اور وہ شاپنگ میں یعنی سودا خریدنے میں اس کے لئے راہنمائی کا کام کر رہی ہوتی ہیں۔گویا کہ ایک دوست اندر اندر ان کو مشورے دے رہا ہوتا ہے کہ ہاں یہ وہی چیز ہے یہ ویسی ہے یا ویسی نہیں ہے اس لئے اس معاملے میں یہ طریق اختیار کرنا چاہئے تو ہر شخص اپنے جذبات، اپنے دماغ کا تجزیہ کر کے دیکھے تو وہ معلوم کرے گا کہ جو میں بتا رہا ہوں بالکل درست اسی طرح ہوتا ہے۔خدا کو کتنے یاد کرتے ہیں یا خدا سے غافل لوگوں کو دیکھ کر کتنے ہیں جن کے دل میں درد پیدا ہو جاتا ہے یہ کیسی دنیا ہے۔دنیا کے ہنگامے، تجارتوں میں مصروف، تجارتوں کی خاطر جھوٹ بولے جارہے ہیں۔ملمع کاریاں ہو رہی ہیں