خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد 13 218 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994ء میں یہ احکامات مانع نہیں ہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی نت پر غور کریں تو ہر چھوٹے بڑے سے آپ کا تعلق تھا یہاں وہ تعلق مراد نہیں ہے۔جن معنوں میں تعلق توڑنے کا حکم ہے اس معنے میں یعنی اس معنی کے اظہار میں ایک بہت فصاحت و بلاغت ہے۔فَأَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلَّى یعنی تمہارا قبلہ اور ہو جائے، تمہارا رخ بدل جائے۔ان کی طرف پیٹھ کر لو جنہوں نے خدا کی طرف پیٹھ کی ہوئی ہے اور اپنا قبلہ درست رکھو۔پس ان کے مقاصد میں ان کے شریک نہ ہو۔ان سے ایسا پیار کا تعلق نہ باندھو کہ تمہارا بھی وہی قبلہ دکھائی دینے لگے جوان کا قبلہ ہے۔تمہاری بھی وہ تمنائیں بن جائیں جو ان کی تمنائیں ہیں۔وہی مرادیں تمہاری ہو جائیں جو ان کی مرادیں ہیں۔پس ان معنوں میں ذکر الہی کا ایک تقاضا ہے جس کے نتیجے میں ہمیں اپنی مجالس کو درست کرنا چاہئے اور اگر مجالس درست نہیں ہیں تو اس آئینے میں اپنا منہ دیکھنا چاہئے کیونکہ یہ آیت کا آئینہ اتنا شفاف ہے اور اتنا کھلا کھلا ہے کہ آپ کے دل کے پاتال تک آپ کی تصویر آپ کو دکھاتا ہے۔پس جہاں طبعی طور پر بعض لوگ بعض خاندانوں کی طرف اس لئے دوڑتے ہیں کہ وہ دولت مند ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس بیٹھنے میں ان کو کوئی مزہ نہیں۔بعض ایسے خاندان بھی ہوتے ہیں ایسے امراء بھی ہوتے ہیں جن کی دماغی حالت اتنی پست ہوتی ہے اور ان کے ذوق اتنے گھٹیا ہوتے ہیں کہ ان کے پاس چند منٹ بیٹھنا بھی ایک عذاب بن جاتا ہے۔ایسے لوگوں کے پاس بعض دیکھے ہیں جو دن رات وہاں بیٹھے رہتے ہیں اور صرف یہ مزہ آ رہا ہے کہ ایک امیر کے ساتھ ہمارا تعلق ہے اور دنیا دیکھے گی کہ ان کے ساتھ اس کا آنا جانا ہے، ان میں اٹھنا بیٹھنا ہے۔تو یہ اس حکم کے منافی ہے اور یہ مراد ہے کہ ان میں اپنی عزتیں نہ ڈھونڈو۔ان کے ساتھ تمہاری لذتیں وابستہ نہیں ہیں نہ ہو سکتی ہیں۔ان کے ذوق مختلف ہیں، ان کے قبلے الگ ہیں۔پس اللہ کے ذکر کے تقاضوں کو ایک عاشق کی طرح پورا کرو اور جس طرح محبت کرنے والا یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے محبوب کا ذکر خیر کرنے والے لوگ ہوں ان میں وہ بیٹھ کر لذت پاتا ہے اسی طرح اپنے لئے صحبت صالحین اختیار کرو۔یعنی خلاصہ آخری بات یہ بنتی ہے مگر صحبت صالحین کا مضمون نسبتا خشک ہے یہ اس سے بہت اعلیٰ اور ارفع مضمون ہے یا دوسرے لفظوں میں بہت گہرا مضمون ہے کہ جہاں محبت ہے وہیں بیٹھو، ان لوگوں میں بیٹھو جن کو اس سے