خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد 13 215 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994ء اِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ (انحل: 126) علم کے تعلق سے یہاں اعلم کا لفظ بولا گیا یعنی ان کے علم کا تو یہ حال ہے۔اللہ کے علم میں بہت باتیں ہیں اور اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے اس شخص کو جو اپنی راہ سے بھٹک گیا ہو۔وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَی اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت کے رستے پر ہو۔تو مراد ہے یہ ضالین لوگ ہیں، گمراہ ہیں، رستے سے ہٹے ہوئے ہیں ، ان کو اپنی بھی خبر نہیں ہے۔جو علم تھا وہ دنیا کا نوکر کر دیا۔اس لئے ان آیات میں فَاعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلَّى کا مضمون کھول دیا گیا ہے کہ کیوں ان سے کنارہ کش ہو۔قرآن کریم نے پہلے فرمایا، جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی، کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کریں۔خیال پیدا ہوتا ہے کہ اولا د زیادہ اہمیت رکھتی ہے اموال کا ذکر پہلے کیوں فرما دیا۔تو اس دوسری آیت نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا کہ انسان کی زیادہ تر جد و جہد اموال کمانے میں ہے اور اولاد، اموال کے مقابل پر ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔جتنا انسان کے ذہن میں اموال گھوم رہے ہیں اس سے بہت کم اولا دگھومتی ہے لیکن بعض صورتوں میں بعض لوگ اولاد پرست بھی ہوتے ہیں اس لئے وہ بہر حال استثناء ہیں ان کے ذہن میں ہر وقت اولاد کا تصور گھوم رہا ہوتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا پر نظر ڈال کر دیکھ لیں اب تو مال کی محبت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ساری دنیا میں آپ کو زیادہ تر لوگ مال کی محبت میں اتنا گم دکھائی دیں گے کہ اولاد کی ہوش نہیں رہتی۔مجھ سے جو لوگ ملنے آتے ہیں بعض دفعہ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کیا کر رہے ہیں اور بیگم سے پوچھتا ہوں کہ آپ کیا کر رہی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ دونوں دنیا کما رہے ہیں اور بعض دفعہ یہ مجبوری کے پیش نظر ہوتا ہے بعض غریب لوگ آتے ہیں انہوں نے قرضے اٹھائے ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنی حالت ہی کو درست نہیں کرنا بلکہ پچھلے غریب رشتہ داروں کی بھی مدد کرنی ہے اس لئے وہاں یہ بات قابلِ فہم ہے وہاں ایک اعلیٰ مقصد ہے جس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہ دنیا کمانے پر مجبور ہیں لیکن میں ان کی بات نہیں کر رہا ایسے لوگوں کی بات کر رہا ہوں جن میں سے ہر ایک اپنی ذات میں اتنا مستغنی ہے، یعنی اتنا خدا تعالیٰ کے فضل سے دولت کماتا ہے اور رکھتا ہے کہ اولادکو ترک کر دینا اس کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔لیکن جب میں پوچھتا ہوں کہ۔