خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 214
خطبات طاہر جلد 13 214 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / مارچ 1994ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تمہیں تمہارے اموال یا تمہاری اولا دیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کریں۔وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ۔جو ایسا کرے گا وہ لوگ یقیناً گھاٹا کھانے والے ہوں گے۔پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَأَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَوةَ الدُّنْيَا۔اس شخص سے تو منہ موڑ لے جو اللہ کی یاد سے غافل ہو گیا۔وَلَمْ يُرِدُ إِلَّا الْحَيُوةَ الدُّنْیا اور دنیا کے سوا اس کی کوئی بھی خواہش نہیں ( ارادہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ) مراد اس سے یہی ہے کہ اس کی مراد دنیارہ گئی ہے۔اس کے سوا اس کی کوئی مراد نہیں۔ذلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ - ان کے علم کا منتہی یہ ہے۔علم کی جو پونجی ان کی ہے بس یہی کچھ ہے کہ دنیا کمالو اور سب کچھ حاصل ہو گیا۔ذلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ میں در حقیقت اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تمام انسانی علوم جو خدا کی یاد سے غافل ہوں ان کے وہ تمام علوم تمام تر دنیا کمانے کے لئے خرچ ہوتے ہیں اور اس پہلو سے آپ غیر مذہبی دنیا کے حالات کا جائزہ لے کے دیکھیں تمام تر علوم دنیا کمانے کے لئے خادم بنائے گئے ہیں اور کوئی بھی ایسا علم نہیں جو انسان کو خدا کی طرف لے جانے میں مدد کرے۔پس ذلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ میں یہ بتایا ہے کہ ان کے علوم کا منتہی یہ ہے۔جب یہ سائنسی تحقیقات کرتے ہیں تو ان کے پیچھے بھی دنیا کمانے کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور بڑی بڑی کمپنیاں اربوں روپیہ اس بات پر خرچ کرتی ہیں کہ کوئی چیز نئی ان کے سامنے آئے اور وہ سارا Trade Related Research کا پروگرام ہے۔یعنی جو دوسری دنیا سے تجارتیں کرتے ہیں اس کو Trade کہتے ہیں اور چونکہ ٹریڈ کے ذریعے یہ بہت بڑی دنیا کی دولتیں کھینچتے ہیں اس لئے بہت بڑی بڑی ایجادات اسی مقصد سے ہیں کہ کسی طرح دنیا کمائی جائے۔یہاں تک کہ اب بیماریوں میں بھی جتنی ایجادات ہیں ان کے تعلق میں جو ریسرچ ہورہی ہے اس میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جو مرض دور کرنے کی خاطر ہو۔ورنہ اصل مقابلہ یہ ہے کہ کون پہلے ایسی دوا ایجاد کرے کہ جس کا کوئی مقابلہ دنیا میں نہ ہو اور تمام تر دنیا کی دولتیں ہم سمیٹ لیں۔اگر یہ مقصد پیش نظر نہ ہوتا تو ایڈز (Aids) پر جو کچھ اب خرچ کرتے ہیں یہ بھی نہ کرتے۔آخری مقصد ہر علم کا دنیا کمانا بنا ہوا ہے اور خدا سے نظر پھر لیں اور دنیا کی طرف متوجہ ہو جائیں۔