خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 193
خطبات طاہر جلد 13 193 خطبہ جمعہ فرموده 11 / مارچ 1994ء اور طرح بیان ہوئی ہے اس میں بڑا جلال ہے اس میں بڑی شان ہے اور ایسا ایک رعب اس میں پایا جاتا ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح : 30) وہ کفار پر بڑے سخت ہیں ان کو طاقت نصیب ہے۔ان کو وہ تلوار نصیب ہوئی ہے جس سے وہ اپنے دشمنوں کو سزائیں دیتے ہیں ایک یہ شان ہے اور پھر فرمایا وَ مَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ لیکن انہی لوگوں کی ایک مثال انجیل میں بھی تو دی گئی ہے وہ مختلف ہے۔اس شان میں ان کی نرمی ان کے حلم کا ذکر ہے ان کے رفتہ رفتہ نشو نما پانے کا ذکر ہے۔ان کے ایسے کمزور آغاز کا ذکر ہے کہ دشمن چاہے تو سمجھے گا کہ میں اپنے پاؤں تلے روند دوں گا اور یہ جو پودا کونپلیں نکال رہا ہے اس کو اپنے قدموں تلے مسل کے رکھ سکتا ہوں سیہ وہ شان ہے۔اب دیکھیں پہلی شان اور اس شان میں بیان کے لحاظ سے اور طرز کے لحاظ سے زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ایک ہی دور کے دوذ کر نہیں ہیں۔پس ہم حق بجانب ہیں یہ کہنے پر کہ حضرت محمد مصطفی اے کی جس شان کی مسیح نے خبر دی تھی اس شان نے اسی زمانے میں ظاہر ہونا تھا جس زمانے میں امت محمدیہ میں مسیح نے ظاہر ہونا تھا۔پس کیسی مناسبت ہے، کوئی بات قرآن کی طرف منسوب نہیں کی جارہی جو قرآن نہیں کہتا۔پس دو مثالیں اتنی کھلی کھلی واضح الگ الگ حالات پر اطلاق پانے والی ہیں کہ بیک وقت ان کا اطلاق ہو نہیں سکتا۔مگر ساتھ ہی مسیحیت کی پیشگوئی کی وجہ سے جو مسیح نے محمد رسول اللہ کے متعلق فرمائی اور حضرت محمد رسول اللہ نے اس مسیح کے متعلق اپنی امت میں آنے کی خبر دے دی۔ان مضامین کو جب آپ اکٹھا دیکھتے ہیں تو وہ باتیں نکلتی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ ہم ہی ہیں وہ آخرین کے دور میں پیدا ہونے والے، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ برکتیں پائیں۔ہم ہی ہیں جو ان صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو آخر میں ہونے کے باوجود اولین سے ملایا گیا تھا اور ہم وہ خوش نصیب ہیں جو سو سال کے بعد پیدا کئے گئے ہیں۔اس زمانے میں پیدا کئے گئے ہیں جب حضرت مسیح موعود کی سوسالہ تاریخ اول سے آخر تک دوہرائی جارہی ہے وہ ساری برکتیں اللہ تعالیٰ ہمیں عطا فرمارہا ہے۔میں نے اپنی خلافت کے بعد پہلے خطاب میں جماعت کو متوجہ کیا تھا کہ یاد رکھو یہ غیر معمولی دن ہیں جن میں ہم داخل ہوئے ہیں۔1882ء میں پہلا ماموریت کا الہام ہوا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور 1982 ء ہی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے منصب خلافت پر فائز فرمایا۔