خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 12

خطبات طاہر جلد 13 12 خطبه جمعه فرموده 7 جنوری 1994ء عبادت کے لائق نہیں۔وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔“ فرماتے ہیں حکومت اسی کی ہے اور سب حمد اسی کو زیبا ہے، وہ ہر شئے پر قادر ہے۔میں مانگتا ہوں خیر جو اس رات میں ہے یعنی اندھیروں سے صرف شر ہی تو وابستہ نہیں، خیر میں بھی تو وابستہ ہیں۔سکینت بھی ملتی ہے اور بہت سے فوائد ہیں جو ملتے ہیں جو اندھیروں سے وابستہ ہیں۔فرمایا ” میں مانگتا ہوں خیر جو اس رات میں ہے اور خیر جو اس رات کے بعد آنے والی ہے اور اس رات کے شہر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس رات کے بعد کی برائی سے بھی سستی سے اور تکبر کی برائی سے میں آگ کے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔سستی سے اور تکبر کی برائی سے یہ دو باتیں خصوصیت سے میرے نزدیک رات کے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں کہ رات چونکہ آرام کے لئے ہے اس لئے سستی اور آرام کا آپس کا ایک رشتہ ہے اور آرام اگر زیادہ ہو جائے اور بے وجہ ہو جائے تو اسی کا نام سستی ہے اور عموما قو میں جو زیادہ آرام طلب ہو جاتی ہیں وہ تنزل اختیار کر جاتی ہیں۔راتیں آرام کے لئے ہیں مگر اتنے آرام کے لئے کہ جو کھوئی ہوئی طاقتوں کو بحال کر دے۔اگر نیند کو ایک عیش کا ذریعہ بنالیں تو وہ پھر ستی طاری کر دیتی 66 ہے اور ہر کام پرشستی طاری ہو جاتی ہے۔(ابوداؤد کتاب الادب حدیث نمبر: 4409) پھر فرمایا تکبر۔تکبر کارات کے ساتھ یا بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ راتوں کے جو آرام ہیں ان میں متکبر جس جس قسم کی نعمتیں جس جس قسم کے محل اپنے لئے بناتے ہیں۔اپنی راتوں کو جس طرح عیش وعشرت کا ذریعہ بناتے ہیں غالبا اس طرف اشارہ ہو گا کہ راتیں اپنے ساتھ متکبروں کے لئے خاص قسم کے پیغامات بھی لاتی ہیں۔خاص قسم کے سامان فراہم کرتی ہیں اور ان کی راتوں کی زندگی خاص طور پر تکبر میں صرف ہوتی ہے اور سجدہ ریزی میں صرف نہیں ہوتی۔وہ سمجھتے ہیں راتیں ہمارے عیش و عشرت کے لئے بنائی گئی ہیں اور امیر لوگ بعض علاقوں میں بعض دفعہ ساری رات جاگ کر ہر قسم کی گندگی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ان کی رعونت اور ان کا تکبر کا سب سے زیادہ مظہر ان کی راتیں ہوتی ہیں۔پس سُستی سے بھی نجات کے لئے دعا مانگی اور تکبر سے بھی نجات کے لئے اور بچنے کے لئے دعا مانگی۔پھر فرمایا اور میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔آگ کے عذاب کا تعلق تو پہلی دونوں باتوں سے ہے یعنی شر والا پہلو بھی ہے رات میں اور اس کے بعد جو آنے والا ہے اس میں بھی شر کا پہلو ہے۔