خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد 13 11 خطبہ جمعہ فرمودہ 7 /جنوری 1994ء وبقوته بینائی اور شنوائی کے ذریعے انسان تمام منفعتیں حاصل کرتا ہے۔اگر اندھا اور بہرہ ہو جائے تو کچھ بھی نہیں رہتا محض ایک سبزی کی طرح لاٹھ سی رہ جاتی ہے۔اس کا کوئی وجود نہیں رہتا۔تمام انسانی فوائد، تمام انسانی ترقیات سب سے زیادہ ان دو قوتوں یعنی شنوائی اور بینائی سے وابستہ ہیں۔حضرت محمد رسول اللہ بڑی گہرائی اور فکر کے ساتھ سوچنے کے بعد موقع اور محل پر دعا مانگتے تھے۔اس مضمون کے تعلق میں بات کیا کرتے تھے۔فرمایا یہ میری آنکھیں بھی تیرے حضور سجدہ ریز ہو رہی ہیں۔میرے کان بھی۔اور تو ہی ہے جواب ان دونوں کی قوتوں کو بڑھا اور ان کو رفعتیں بخش، اور ایسے موقع پر پھر سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعْلیٰ کے مضمون میں ایک نئی شان پیدا ہوتی ہے ایک نئی بلندی پیدا ہوتی ہے۔اللہ کی رفعتوں کے ساتھ سماعت کو بھی رفعت ملتی ہے۔اللہ کی رفعتوں کے ساتھ بینائی کو بھی ایک رفعت ملتی ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ملے سے بہتر ذکر کرنے والا کبھی دنیا میں کوئی پیدا نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے۔پس ذکر کرنے ہیں تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ عليسة ماہ سے سیکھیں۔ابوداؤد کتاب الادب میں ایک یہ حدیث درج ہے۔حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب شام ہو جاتی تو رسول کریم یہ دعا کرتے کہ ہم نے شام کی اور تمام ملک نے اللہ کے لئے شام کی۔اب یہ بظاہر ایک عام سا فقرہ ہے لیکن اس میں عام طور پر خاص بات دکھائی نہیں دے گی مگر آپ کو غور کرنا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تمام دنیا نے شام کی ہے۔اس زمانے میں جو انسان کا دنیا کا تصور تھا وہ یہ تھا کہ ساری دنیا پر بیک وقت رات آتی ہے اور بیک وقت صبح آ جاتی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ بھی اسی سوچ کے مطابق یہ فرما سکتے تھے کہ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جس کے لئے ہم نے بھی شام کی اور ساری دنیا نے بھی شام کی مگر آنحضور یہ نہیں فرماتے۔فرماتے ہیں اور ملک نے اللہ کے لئے شام کی اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے شعور عطا ہوا تھا کہ ہر ملک کی صبح الگ ہے ہر ملک کی شام الگ ہے۔ایک ملک تو شام میں شریک ہوسکتا ہے اور چونکہ مراد ملک عرب تھا اس لئے عرب کی تو بہر حال ایک ہی شام تھی مگر ملکوں اور خطوں کی شامیں الگ الگ ہو سکتی ہیں۔یہ مضمون واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ پر روشن تھا۔پس فرمایا جب شام ہو جاتی ہے۔”ہم نے شام کی اور تمام ملک نے اللہ کے لئے شام کی اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔اللہ کے سوا کوئی صلى الله