خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد 13 154 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1994ء ہے اور جہاں تک میں نے پرانی تقویم کے ذریعے اس زمانے کا حساب لگایا ہے جب رمضان فرض ہوا ہے تو وہ تو گرمیوں کے روزے ہی نہیں تھے وہ تو سردیوں کے روزے بنتے ہیں مثلاً رمضان بدر میں مارچ کے مہینے میں آیا ہے اور اس کے بعد جوں جوں آگے بڑھتے ہیں فتح مکہ کی طرف، یہ سردیوں کی طرف مائل رہا ہے نہ کہ گرمیوں کی طرف۔اس لئے پتا نہیں کیوں پرانے بزرگوں نے یہ لکھ دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ گرمیوں کے مہینے میں اترا ہی نہیں ہے یعنی رمضان کی فرضیت گرمیوں کے مہینے میں نہیں ہوئی۔زیادہ سے زیادہ اسے اپریل کا مہینہ کہہ سکتے ہیں اس سے آگے نہیں۔اس لئے وہ چونکہ ملک و یسے ہی گرم ہے بعض دفعہ ہمارے ملک میں بھی پاکستان میں بھی مارچ اپریل میں بڑی سخت گرمی ہو جاتی ہے تو جہاں گرمیوں کی روایتیں ہیں لمبے سفر کے موقع پر شاید اس سے اندازہ لگا کر بعض لکھنے والوں نے لکھ دیا کہ گرمیوں کے مہینے میں رمضان آیا ہو گا۔مگر آپ حساب لگا کے دیکھ لیں رمضان شروع ہی گرمیوں کے مہینے ختم ہونے کے بعد سردیوں کے مہینوں کے آغاز میں ہوا ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ویسے ہی اس دلیل کور دفرمارہے ہیں۔رمضان ساری دنیا کے لئے ہے۔دنیا میں بہت ٹھنڈے ملک بھی ہیں ، بہت گرم ملک بھی ہیں اس لئے اس کے روحانی معنوں کو تلاش کرو، چنانچہ آپ فرماتے ہیں: روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں۔۔۔۔66 ( ملفوظات جلد اول صفحه : 136) یعنی خصوصیت سے وہ حرارت جس سے باہر پڑے ہوئے پتھر گرم ہو جاتے ہیں اس کے لئے بھی لفظ رمضان عربی میں استعمال ہوتا ہے۔پس مراد یہ ہے کہ ایسے موقع پر ہر قسم کے انسان اس سے گرمی پاتے ہیں یا روحانی طور پر فیض پاتے ہیں۔بعض لوگ مزاج کے پتھر دل بھی ہوتے ہیں سخت دل بھی ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رمضان کے مہینے کا کچھ نہ کچھ فیض ان کو بھی پہنچ جاتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ البقره: 186) که رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا“ سے ماہ رمضان کی عظمت