خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد 13 153 خطبه جمعه فرمود و 25 فروری 1994ء ہے رفتار ویسے ہی تیز ہو جاتی ہے مگر چونکہ جسمانی اور روحانی طاقتوں میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے اس لئے پہلے سے کئی گنا زیادہ رفتار آگے بڑھ جاتی ہے۔پس یہ بہت ہی اچھا نسخہ ہے دینی اور دنیاوی طور پر ترقیات کی راہ پر پہلے سے زیادہ تیزی سے گامزن ہونے کا کہ رمضان سے رمضان کی زکوۃ دیتے ہوئے گزریں۔ایک اور حدیث ہے حضرت اقدس محمد مصطفی میے کے متعلق۔عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم نے سب لوگوں سے زیادہ بھی تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت اور بھی زیادہ ہو جاتی تھی اور جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے اور قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔رسول کریم ﷺ ان دنوں تیز آندھیوں سے بھی زیادہ سخاوت فرمایا کرتے تھے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رمضان کی روح کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کیلئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔“ آپ میں سے اکثر جو عربی نہیں جانتے وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکے ہوں گے کہ مل کر کیسے رمضان ہوا۔اس لئے کہ رمض کا مطلب ہے گرمی اور رمضان کے معنی ہیں دو گرمیاں۔تو فرمایا کہ رمضان میں ان دونوں گرمیوں کا ملنا ضروری ہے تب رمضان بنے گا اور یہ وہی بات ہے جو میں اس سے پہلے آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں کہ جسمانی زکوۃ بھی دیں اور روحانی زکوۃ بھی دیں۔تب جا کر یہ صحیح معنوں میں رمضان بنے گا یعنی دونوں گرمیاں آپ کو نصیب ہوں گی۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لئے رمضان کہلایا میرے نزدیک یہ میچ نہیں ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے ) کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہوسکتی۔۔۔فرمایا رمضان تو ساری دنیا کے لئے ہے اور سخت ٹھنڈے علاقوں کے لئے بھی ہے اگر یہ حکمت بیان کی جائے اس لئے رمضان کہتے ہیں کہ گرمیوں میں آیا تو یہ ویسے ہی درست بات نہیں