خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد 13 140 خطبه جمعه فرمود و 25 فروری 1994ء مہدی کی صداقت کا نشان تھا۔وہ پیشگوئی آنحضرت ﷺ کی صداقت کا ایک عظیم نشان تھی اور اس کا ذکر اس حدیث میں ملتا ہے کہ: إِنَّ لِمَهْدِيّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ (سنن دار قطنی باب صفۃ صلوۃ الخسوف والكسوف) اس پیش گوئی سے متعلق انشاء اللہ تفصیلی گفتگو تو بعد میں ہوگی لیکن چونکہ کل رمضان مبارک کی وہ تیرہ تاریخ تھی جبکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے عشاق کی نگاہیں آسمان پر حمد و شکر سے لبریز ہو کر اس حالت میں پڑتی تھیں کہ روحیں سجدہ ریز تھیں اور نظر اس آسمانی نشان پر تھی اور انتظار میں تھے کہ کتنے دن اور سورج کے گرہن کا نشان ظاہر ہونے میں باقی ہیں۔ایک ایک دن کاٹ کر کٹے اور پھر سورج کی وہ 28 تاریخ پہنچی جس میں دن کے وقت سورج نے بھی گہنایا جانا تھا اور اس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی عظیم پیشگوئی پوری ہوئی۔یہ عجیب بات ہے کہ اگر چہ دنیا میں بہت سے مہدویت کے دعوے داروں کا ذکر ملتا ہے لیکن ساری تاریخ کو کھنگال کر دیکھ لو ایک بھی دعوے دار ایسا نہیں جس نے چاند اور سورج کے گر ہنوں کو اپنی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کیا ہو۔جو دعوے کے بعد خود منتظر رہا اور اس کے ماننے والے منتظر رہے ہوں کہ کب آسمان سے یہ نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے دشمن بھی منتظر رہے ہوں کہ ان نشانات کے ظاہر ہونے سے پہلے یہ دعوے دار مرجائے اور ہم اپنی آنکھوں سے اس کا جھوٹا ہونا دیکھ لیں۔یہ دوہرے انتظار کی کیفیت تھی جو 1889ء سے شروع ہوئی جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے با قاعدہ مہدویت کے دعوے کے بعد جماعت کی بنیا درکھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ 1894ء میں یہ پیشگوئی اپنی تمام کمال شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ہم اس سال میں داخل ہوئے ہیں جو آسمانی گواہیوں کا سال ہے۔زمین کی گواہیاں تو یہ لوگ رد کر بیٹھے ہیں اب آسمان سے گواہیاں اتر رہی ہیں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے سب دنیا کا جماعت احمدیہ کے پیغام کوسننا بھی ایک آسمانی گواہی ہے اور یہ عجیب اللہ کی شان ہے کہ اسی سال میں