خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 136

خطبات طاہر جلد 13 136 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء رہے ہوتے ہیں اگر گواہی دینی ہے کہیں، کہیں اپنے مقصد کی بات ہو، کہیں کسی جرم سے، کسی سزا سے بچنا ہو، کہیں اسامکم ڈھونڈ نا ہو، کہیں اور اس قسم کے معاملات ہوں جہاں روز مرہ ان کی زندگی کو فائدہ ہوگا تو پہلا خیال ہی ان کے دماغ میں جھوٹ کا آتا ہے کہ کس طرح جھوٹ بولیں کہ ہم اس مصیبت سے بچ جائیں اور فلاں فائدہ حاصل کر لیں۔ایک انشورنس ہے، اس کا ناجائز استعمال ہے۔روزمرہ کی زندگی میں حکومت کچھ دلوا رہی ہے اور آپ اپنا کام کر رہے ہیں۔اگر کر رہے ہیں تو پھر پکڑے جانے پر اس کے عواقب کے لئے بھی تیار رہیں۔کیوں آپ کرتے ہیں؟ اگر تو اس یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر ہم پکڑے گئے تو ہم مانیں گے اور اس سے بڑی بدی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔اگر ایسا یقین ہو تو اکثر آپ میں سے کام ہی چھوڑ کے بھاگ جائیں لیکن جو کرتے ہیں اکثر ان کے دل میں اسی قسم کے چور چھپے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں اگر پکڑے گئے تو ہم نے یہ کہنا ہے ہم تو یوں کر رہے تھے اور یہ بات ہورہی تھی یا غلط اطلاع دی گئی ہے جھوٹ ہے ، جھوٹے الزام ہیں۔پس ہر انسان کے جسم کے اندر اس کے دل میں اس کے رگ و پے میں جھوٹ کے چور چھپے ہوئے ہیں اور حقیقت میں اگر وہ غور کرے تو خدا سے بڑھ کر ان کی عبادت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب سخت مصیبت کا وقت آتا ہے تو بعض مشرک بھی میری طرف دوڑتے ہیں اور مجھ سے مدد مانگتے ہیں۔جب سمندر میں ہواؤں کے مزاج بدل جائیں اور لہریں کشتی کو اس طرح تھیٹڑے دینے لگیں کہ کسی وقت بھی وہ غرق ہو سکتی ہو اس وقت مشرک بھی خدا کو پکارنے لگتا ہے۔اس موحد کا کیا حال ہو گا جب وہ زندگی میں ادنی سی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو ، جب اس کی کشتی کو معمولی ہچکولے لگ رہے ہوں اور وہ خدا کی طرف دماغ لے جانے کی بجائے کسی جھوٹ کی طرف مائل ہو رہا ہو تو اس جھوٹ کو خدا بنانے کے مترادف بات ہے اور بہت ہی مکروہ بات ہے۔ساری عمر کی تو حید کو یہ جھوٹ کھا جاتا ہے اور باطل کر دیتا ہے۔پس جھوٹ سے بچنے کی پہچان یہ ہے کہ اپنے اعمال پر غور کریں اور یہ فیصلہ کرتے رہیں بار بار کہ اس عمل کے نتیجے میں اگر میں کبھی ایسے مقام پہ پہنچوں جہاں مجھے کوئی خطرہ درپیش ہو تو آیا میں جھوٹ کا سہارا لئے بغیر سزا کو خوشی سے قبول کرتے ہوئے اپنی توحید کا سچے دل سے اقرار کر سکتا ہوں کہ نہیں۔توحید کے ساتھ وفا دکھا سکتا ہوں کہ نہیں۔اگر نہیں تو پھر اس کی زندگی میں خطرے کا الارم بج