خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 135
خطبات طاہر جلد 13 135 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء بھی کرتی ہیں۔اگر محلے والا کوئی آکے کہتا تو شاید اس پر مرنے مارنے پر یالڑنے پر آمادہ ہو جاتے۔پس بچوں کو میں کہہ رہا ہوں جو میرے مخاطب ہیں میرے سامنے ٹیلی ویژن پر بیٹھے ہوں گے وہ تیار ہو جائیں مربی بننے کے لئے ، مگر گستاخی نہ کریں، ماں باپ آپ کے بڑے ہیں۔ان سے تن کر نہ بولنا۔ادب اور پیار سے ان کو سمجھا ئیں تو انشاء اللہ آپ کی باتوں کا نیک اثر پڑے گا۔یہ جو آپ نے محاورہ سن رکھا ہے کہ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹ سکتا ہے، تو اے احمدی بچو تم وہ پھول کی پتیاں ہو جن سے سخت جگر بھی کٹ سکتے ہیں۔اگر پیار سے اللہ کی خاطر ، ہمدردی سے، اپنے بڑوں کو نصیحت کرو گے تو دیکھنا انشاء اللہ ان کے دل پر اس کا کیسا گہرا اثر پڑے گا۔تو تم بھی نگران ہو جاؤ اور اپنے گھروں میں جھوٹ کو داخل ہونے کی اجازت نہ دو اور جو داخل ہوئے ہیں ان کو دھکے دے دے کر باہر نکال دو۔وہ جماعت جو جھوٹ سے پاک ہو جائے اور اس زمانے میں جبکہ جھوٹ نے ساری انسانی زندگی پر قبضہ کر رکھا ہے۔اس کی بقا کی آسمان ضمانت دے گا خدا ضمانت دے گا۔کوئی دنیا کی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں کر سکے گی اگر آپ بچے ہو جائیں۔عقائد میں سچے ہیں ، اعمال میں سچا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ کے زہر سے اپنے اعمال کو روز بروز ضائع کرتے چلے جاتے ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ تیزاب ہے جو نیکیاں کھاتا جاتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں بہت سخت تکلیفیں پھیلتی ہیں۔جھوٹ کے نتیجے میں کئی طلاقیں ہوتی ہیں، کئی گھر جہنم بنے رہتے ہیں اور روز مرہ کی جھوٹ کی عادت سے انسان اپنے باہر کے نقصان بھی کراتا ہے۔تجارتوں میں بے برکتی پڑ جاتی ہے جو شراکتیں ہیں وہ نا کام ہو کر ٹوٹ جاتی ہیں اور تلخیاں پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔یہ تو بہت ہی خبیث چیز ہے۔اس لئے اس رمضان میں جھوٹ کے خلاف بھی جہاد کریں اور جھوٹ کے خلاف جہاد میں بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کریں۔چھوٹے بڑے سب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جھوٹ کی لعنت سے نجات بخشے۔اور میں جو بار بار کہہ رہا ہوں اس کی وجہ ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض احمدی نیکیاں اختیار کرنے کے باوجود جھوٹ کو اس شدت سے نہیں چھوڑ رہے جیسا کہ ایک سخت نفرت کے رویے سے جھوٹ کو ترک کر، باہر پھینک دینا چاہئے اس طرح دلوں سے اکھیڑ کر باہر نہیں پھینکا ہوا۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان کو ضرورت پیش آتی ہے تو جھوٹ بول جاتے ہیں۔یعنی روز مرہ نہیں بول