خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد 13 111 خطبه جمعه فرموده 11 فروری 1994ء مشکلات کے وقت آتے ہیں جب مصائب کے زلزلے آتے ہیں تو تمہارے ایمان کی بنیادوں پر زلزلہ طاری ہو جاتا ہے اور بسا اوقات تمہارے ایمان بنیادوں سے اکھیڑے جاتے ہیں۔تو ایمان تو وہ ہے جو ہر قسم کے مصائب کے ابتلاء میں پڑنے کے بعد پھر بھی ثابت قدم رہے اور اسی طرح وہ آسمان سے باتیں کر رہا ہو جیسے ایک مضبوط تناور درخت جس کی جڑیں زمین میں قائم ہوں وہ ابتلاؤں اور زلازل کے وقت بھی اسی طرح ثابت قدم رہتا ہے اور اس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی رہتی ہیں پھر فرمایا وَلْيُؤْمِنُوا لی اب ہم تمہیں سمجھا رہے ہیں کہ ایمان اس کو کہتے ہیں، عبادت کے حق ادا کرو، خدا کے حضور جھکو اس کی ہر بات پر لبیک کہو اور اس کے نتیجے میں پھر کسی دور کی جنت کا انتظارنہ کرو بلکہ خدا کی جنت اپنی رضالے کر تمہارے پاس کھڑی ہوگی۔تمہاری ہر تمنا کو دیکھے گی اور ہر خواہش کا جواب دے گی۔پس یہ وہ مضمون ہے جو رمضان مبارک سے تعلق رکھتا ہے پس مجھ پر وہ ایمان لے آئیں۔اس کے بعد فرمایا لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا که عقل کامل حاصل کر سکیں۔رشد ہدایت کو بھی کہتے ہیں اور عقل کو بھی کہتے ہیں اور حقیقت میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ اہل اللہ ہی ہیں جن کو عقل کامل نصیب ہوتی ہے اس کے بغیر یونہی دنیا کے ڈھکوسلے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اہل عقل ہیں لیکن جن کے فیصلے خدا کے حوالے سے نہ ہوں ان کے فیصلے کبھی درست نہیں ہو سکتے۔صرف اسی وقت درست ہوں گے جب خدا کا حوالہ اس طرف کھڑا ہو جس طرف ان کا اپنا مفاد کھڑا ہے جب دونوں کی سمت ایک ہو جائے گی تو وہ ضرور درست فیصلہ کریں گے لیکن جہاں یہ سمت بدلے گی خدا ایک طرف ہوگا اور ان کا مفاد دوسری طرف وہاں وہ بے وقوف لوگ ہمیشہ اپنے مفاد کے حق میں فیصلے کریں گے اور خدا کے حق میں نہیں کریں گے تو ان کی عقل عارضی ہے اور وقتی حالات سے تعلق رکھتی ہے جب وہ حالات بدلتے ہیں تو عقل ماری جاتی ہے۔پس آج دنیا کی بڑی بڑی قو میں جو اپنے سیاسی یا دیگر ملکی فیصلہ جات میں غلطیاں کرتی ہیں اس کی بنیادی وجہ آپ یہی دیکھیں گے کہ وہ خدا سے عاری فیصلے کرتے ہیں اگر اتفاقا وہ بات ہدایت کی ہو جائے تو ہو جائے گی ورنہ جب بھی ان کا مفاد عقل گل کے مفاد سے ٹکرائے گا وہ اپنے مفاد میں فیصلے کریں گے اور عقل کل کو ترک کر دیں گے۔رمضان مبارک میں ہم نے یہ سب کچھ حاصل کرنا ہے ایک مہینے کا سفر ہے اَيَّامًا