خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد 13 باتیں بار بار سمجھانی مفید ہوتی ہیں۔101 خطبه جمعه فرموده 11 فروری 1994ء لفظ اطاق يُطِيقُ طاقت کے مادے سے نکلا ہے اور جب اس کو باب افعال میں جس طرح کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے استعمال کیا جائے تو اس میں بیک وقت مثبت معنی بھی آجاتے ہیں اور منفی معنی بھی آجاتے ہیں اور موقع محل کے مطابق استعمال کرنے والا یا سنے والا یہ فیصلہ کرتا ہے تو يطيقُونَ کا مطلب یہ ہے وہ لوگ جو اس کی طاقت رکھتے ہیں اور يُطيقُونَ کا مطلب یہ 66 99 له ہے کہ وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے۔جب ان دو پہلوؤں سے الگ الگ آیت پر غور کریں تو پھر اگلا سوال یہ اٹھے گا کہ کس کی طاقت نہیں رکھتے۔ہ “ کی ضمیر کس طرف جا رہی ہے تو جو باتیں اس آیت میں مذکور ہیں ان میں عقلاً وہ جگہ تلاش کرنی ہوگی جن کا تعلق ہ “ کی ضمیر سے ہے یعنی وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے۔جس کی طاقت نہیں رکھتے کیا چیز ہے؟ 66 چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ 66 66 ایک روزے کا ذکر گزرا ہے اور ایک فدیہ کا۔پس یا ہ“ سے مرا دروزہ ہے یا ہ“ سے مراد فدیہ ہے یا بدلتی ہوئی شکلوں میں دونوں ہی باری باری مراد ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ایک معنی جو میں نے آپ کے سامنے پڑھا تھا وہ یہ تھا کہ وہ لوگ جو فدیہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ فدیہ دیں سب پر فریضہ نہیں ہے، یہ ایک ایسا فعل ہے جو پسندیدہ ہے اور اس طرح فرض نہیں جیسا کہ روزے فرض ہیں۔پس جولوگ فدیہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ اگر روزہ نہیں رکھ سکتے تو فدیہ دیں۔دوسری ضمیر اس کی چلے گی روزے کی طرف۔جولوگ روزے کی طاقت رکھتے ہیں اور کسی مجبوری کے پیش نظر روزہ نہیں رکھ رہے ان کو فدیہ دینا چاہئے۔اس کا دوسرا مطلب یہ بنے گا کہ وہ لوگ جو دائمی مریض ہیں یا عمر کے اس حصے کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے تو وہ فدیہ بے شک نہ دیں لیکن جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ضرور فدیہ دیں۔یعنی بیمار ہیں اور روزے کی طاقت رکھتے ہیں۔یہاں (Potential) طاقت مراد ہے یعنی اپنی استطاعت کے لحاظ سے جو ان کو فطرت نے ودیعت کی ہے یا ابھی روزے رکھنے کی عمر میں ہیں اور نہیں رکھ سکتے وہ فدیہ دیں۔یہ وہ معنی ہے جسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی ایک تحریر میں قبول کرتے ہوئے یعنی اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے اوپر روشنی ڈالی ہے کہ کیوں فدیہ دیا جائے پھر اگر روزے کی طاقت ہے اور نہیں رکھ سکتے تو فدیہ کا کیا سوال پیدا ہوا۔اس کا