خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد 13 100 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ پھر فرمایا :۔(البقره 184 تا 187) یہ وہ آیات ہیں جن میں رمضان کی فرضیت کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اے مومنو! تم پر یہ فرض کر دیا گیا ہے کہ تم رمضان کے روزے اسی طرح رکھو جیسے تم سے پہلوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو آیا ما مَّعْدُودَتِ چند دن ہی کی بات ہے، چند دن کا فریضہ ہے۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمُ مَّرِيضًا پس تم میں سے جو کوئی بھی بیمار ہو اَوْ عَلى سَفَرٍ یا سفر پر ہو فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ تو پھر اس مدت کو دوسرے ایام میں پورا کرنا ہو گا اور الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكَيْنِ وہ لوگ جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں ان پر فدیہ بھی فرض ہے یا ان کے لئے فدیہ دینا بہتر ہے۔ایک تو اس کا یہ ترجمہ بنتا ہے اور بھی تراجم ہیں اور وہ سارے بیک وقت درست ہیں چنانچہ میں باری باری اس آیت کے مختلف ترجمے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس میں یہ بحث نہیں ہے کہ یہ درست ہے یا وہ درست ہے یا اسے اختیار کیا جائے یا اسے اختیار کیا جائے۔میرے نزدیک یہ چونکہ مضمون کو کھول رہے ہیں اور وسعت دے رہے ہیں اس لئے بیک وقت سارے درست ہیں اور بیک وقت ان تمام معانی پر نظر رکھتے ہوئے اپنے اعمال کو ڈھالنا چاہئے۔جیسے بعض دفعہ ایک تنگ جگہ سے دریا گزرتا ہے تو اسکی گہرائی تک نظر نہیں جاسکتی پھر جب وسعت اختیار کرتا ہے تو وہ پھیل جاتا ہے لیکن پانی تو وہی پانی رہتا ہے۔پس خدا کا کلام اسی طرح عرفان کا کلام ہے خواہ وہ آپ کو تھوڑا دکھائی دے اس وقت وہ زیادہ گہرائی میں جا چکا ہوتا ہے بعض دفعہ وہ پھیل جاتا ہے اور کھلا کھلا وسیع دکھائی دیتا ہے۔پس یہ وہ موقع ہے جہاں آیت کریمہ ایک ایسی جگہ داخل ہوگئی ہے جہاں منظر بہت کشادہ اور وسیع دکھائی دینے لگا ہے۔پس اس پہلو سے اس کے ترجمے کے پھیلاؤ کے متعلق پہلے یہ اصولی بات بیان کروں اور وہ پہلے بھی کر چکا ہوں مگر چونکہ بہت سے نئے سننے والے شامل ہوتے رہتے ہیں نئی نسل کے لوگ بھی آگے آتے رہتے ہیں اس لئے بعض