خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 95

خطبات طاہر جلد 13 95 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء پس اللہ کرے کہ ساری جماعت اسی طرح بیدار ہو جائے۔مجھے یاد ہے میں علماء کو کہا کرتا تھا کہ تم ایسی بڑھ بڑھ کے باتیں نہ کرو تمہاری کوئی تعداد نہیں ہے۔تم سمجھتے ہو کہ تمہیں ہم پر عددی غلبہ ہے جتنے احمدی ہیں یہ جاگ اٹھیں تو پھر تمہیں سمجھ آئے گی کہ طاقت ہوتی کیا ہے۔جتنی احمدیوں کی تعداد ہے اس سے کئی گناہ زیادہ خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ان کو قوت عطا ہوتی ہے اور پھر اس کے اوپر رعب ہے۔وہ رِيحُكُم والی بات جو ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔رعب کے ساتھ ان کو غلبہ عطا ہوتا ہے پھر نُصِرْتَ بِالرُّعب ( تذکرہ صفحہ 566) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالی نے وعدہ فرمایا تھا کہ تمہیں رعب کے ساتھ ہم نصرت عطا کریں گے۔تو وہی رِيحُكُم والی بات ہے۔جو خدا کی طرف سے مومن کو اس سے زیادہ بڑا بنا کے دکھایا جاتا ہے جتنا وہ اصل میں نظر آنا چاہئے اور جو اصل میں نظر آنا چاہئے وہ اس کی حقیقت سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔تو وہ مضمون جو فتح کا مضمون ہے۔اس حساب کے بغیر فتح ممکن ہی نہیں ہماری۔ہماری اصلیت کیا ہے وہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ کسی ملک میں بھی دیکھ لیں ہماری ذاتی حیثیت ان سب باتوں کے با وجود کچھ بھی نہیں۔لیکن سامان اللہ کر رہا ہے۔غیب سے خدا کے فرشتوں کی فوجیں اتر رہی ہیں، ہر کام میں برکت پڑ رہی ہے، ہر کام ہماری طاقت سے زیادہ ہوکر رونما ہورہا ہے۔پس اس دور سے فائدہ اٹھا ئیں یہ روز روز مرہ قوموں کو عطا نہیں ہوا کرتے جب خدا کی طرف سے آتے ہیں تو غیر معمولی انقلابات کی خوشخبریاں لے کر آتے ہیں۔مگر ان کو عطا ہوتی ہیں جو کہ ان ہواؤں کے رخ پر چلنا شروع کریں۔پس یہ سفر اختیار کریں اور بڑے زور اور شدت کے ساتھ اختیار کریں۔رمضان میں یہ ہوا ئیں تیز ہونے والی ہیں ان تیز ہواؤں کے ساتھ بلند تر آواز سے ذکر الہی بلند کرتے چلے جائیں اور ذکر الہی کے ترانے گاتے ہوئے اس سفر میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں اور یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دور میں احمدیت کے لئے بڑی عظیم الشان کامیابیاں مقدر کر رکھی ہیں۔میں جب پچھلے سالوں میں، سال کے آخر پر کہا کرتا تھا کہ یہ ہو گیا یہ ہو جائے گا انشاء اللہ تو میں سوچا کرتا تھا کہ یہ تو ہو گیا اگلے سال کے لئے کیا کہوں گا۔پھر اگلے سال کے لئے اللہ کچھ اور بات عطا کر دیتا تھا جس کی طرف ذہن جاہی نہیں سکتا تھا۔جب چالیس ہزار کی خوشخبری ملی تھی بیعتوں کی تو