خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 982
خطبات طاہر جلد ۱۲ 982 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء جماعت احمدیہ نے شروع کر رکھی ہے اس کو مزید تقویت ملے۔یہ سال جو گزرا ہے اسے میں نے عالمی بھائی چارے کا سال قرار دیا تھا اور جماعتوں کو نصیحت کی تھی کہ پوری کوشش کریں کہ اس سال کے دوران مختلف مذاہب کے لوگ مختلف قوموں کے لوگ ، مختلف جغرافیائی خطوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کے قریب آئیں۔پس قادیان کا جلسہ اس سال کا ایک اختتام ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اختتام بہترین پھل اپنے چھوڑ جائے گا جو میٹھے ہوں گے، باقی رہنے والے ہوں گے اور انسانی اخلاق کی صحت کے لئے مفید اثرات پیچھے چھوڑیں گے۔اب ذکر الہی کے مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔ذکر الہی کا مضمون صرف ایک جلسے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ عالمی طور پر تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے اور کسی ایک لمحہ کی بات نہیں بلکہ ساری زندگی کے تمام لمحوں پر یہ ذکر محیط ہے اور صرف مسلمانوں کا ذکر نہیں ، دنیا کے ہر مذہب نے اپنے اپنے طور پر ذکر الہی پر کچھ نہ کچھ زور دیا ہے اور مذہب کا آخری خلاصہ ذکر ہے۔پس ذکر سے متعلق بہت کھول کھول کر جماعت کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ذکر ہے کیا ؟ کیسے کیا جاتا ہے؟ اور اس کے نتیجہ میں آپ کے اندر کیا پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی اور ہونی چاہئیں۔اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کے ذکر کے طریق بیان کر رہا تھا اور بات اس طرح چھڑی تھی کہ ایک مشہور عرب شاعر امراؤالقیس ہوگزرا ہے جس نے اپنے دوستوں کو یہ کہہ کر ایک منزل پر رکنے کی ہدایت دی کہ یہ میرے محبوب کی منزل کے مٹے ہوئے نشانات ہیں۔انہیں دیکھ کر میرا محبوب مجھے یاد آتا ہے۔پس اے مرے ساتھیو! تم بھی ٹھہرو کچھ عرصہ مل کر ان مٹتے نشانات پر آنسو بہا لیں۔میں نے ذکر کیا تھا کہ ایک شاعر اپنے محبوب کے ساتھ ایسا تعلق رکھتا تھا کہ اس کی منزل کے مٹے ہوئے نشانات بھی اس کو اس کا ذکر کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں تو اللہ کے ذکر سے ہم کیسے غافل ہو سکتے ہیں جس کے نشانات تمام کائنات پر محیط ہیں جو آفاق میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہے۔باہر بھی ہے اور اندر بھی ہے۔انسان خواہ باہر کی دنیا کا مطالعہ کرے یا اپنے نفس میں ڈوب جائے ہر جگہ اسے خدا تعالیٰ کے مٹتے ہوئے نہیں بلکہ ہر جگہ زندہ اور ابھرتے ہوئے نشان دکھائی دیں گے۔وہ نشانات ہیں تو زندہ اور روشن بھی ہیں لیکن انسانی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اس لئے بعض لوگوں کو نہ وہ نشان دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی ان میں روشنی نظر آتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ شعور