خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 969
خطبات طاہر جلد ۱۲ 969 خطبہ جمعہ ۱۷ر دسمبر ۱۹۹۳ء فرمایا۔يملاء ما بينهم و ما بين السماء الدنيا “یہ فرشتے ہیں جو ذ کر کرتے ہوئے ان مجلس کے اوپر اپنے پروں کا سایہ کرتے ہیں اور اس ذکر میں ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور پھر تہ بہ تہ،صف بہ صف جیسے پر پھیلائے ہوئے پرندے ایک تہہ کے بعد دوسری تہہ میں آسمان میں بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہوں اور سارا آسمان ایسے پرندوں سے بھر جائے۔ویسا ہی نقشہ حضور اکر مکہ کھینچتے ہیں۔ساری فضا ان کے سایہ برکت سے مامور ہو جاتی ہے۔جب لوگ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں۔تو وہ فرشتے بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔وہاں اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ سب جانتا ہے یعنی خدا کا پوچھنا اس لئے نہیں کہ وہ اس کو علم نہیں ہے۔پھر کس لئے ہے؟ اس لئے کہ جب انسان کسی پیارے کی مجلس کی باتیں جانتا بھی ہو تو ان کو دوبارہ سنتا ہے پھر سنتا ہے اور پھر سنتا ہے اور پیاس نہیں بجھتی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں جیسا کہ وہ مجھ سے کرتے ہیں۔جو میرے ذکر کے متلاشی رہتے ہیں اور میرے ذکر سے ان کو لطف آتا ہے۔مجھے بھی ان کے ذکر سے لطف آتا ہے۔تو یہ جو پوچھنا ہے اب بار بار جو ذ کر آئے گا اس سے یہی مراد ہے کہ ایسے بندوں سے اللہ پیار کا اظہار کرتا ہے۔فرمایا اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔کہاں سے آئے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح کر رہے تھے، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے ، تیری عبادت میں مصروف تھے اور تیری حمد میں رطب اللسان تھے اور وہ تجھ سے دعائیں مانگ رہے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟ یعنی جانتے ہوئے کہ کیا مانگتے ہیں، پوچھتا ہے کہ کیا مانگتے ہیں؟ اس پر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ تجھ سے تیری جنت مانگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے کہ کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! انہوں نے تیری جنت تو نہیں دیکھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی کیا کیفیت ہوگی اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیں؟ پھر فرشتے کہتے ہیں وہ تیری پناہ چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر فرماتا ہے وہ کس چیز سے میری پناہ چاہتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں تیری آگ سے پناہ چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں دیکھی تو نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان