خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 962 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 962

خطبات طاہر جلد ۱۲ 962 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء دیش کا رخ کیا ہے اور وہاں اسی طرح فتنہ وفساد پھیلانا چاہتے ہیں جیسے کبھی پاکستان میں پھیلا چکے تھے۔وہی مطالبے ہیں وہی شور، وہی سازشیں اور بنگال کی جماعت کی طرف سے بار بار دعا کی درخواستیں ملتی رہی ہیں۔اللہ کے فضل سے وہ بہادر ہیں ڈٹے ہوئے ہیں اور حکومت کو انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر اسی قسم کی شرارت تم نے یہاں کی جیسی پاکستان میں کروائی گئی تھی تو ہم سارے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے حاضر بیٹھے ہیں اور تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم تھوڑے ہونے کی وجہ سے تم لوگوں سے مرعوب ہو جائیں گے لیکن پھر بعد میں بنگلہ دیش سے ہمیشہ کے لئے امن اٹھ جائے گا۔اس سے بدتر حال میں پہنچو گے جس حال میں احمدی کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں پاکستان کا نقصان ہوا اور اس وقت سے قوم منتشر ہوئی ہوئی ہے، بٹی ہوئی ہے، بہت ہی درد ناک حالت ہے۔بہر حال انہوں نے سمجھا کر کھلے بندوں اشتہارات دے کر بھی اس بات کو واضح کر دیا ہے۔خطوط کے ذریعے بھی لیکن خاص طور پر وہ دعا کی درخواست کرتے ہیں۔تمام عالمگیر جماعت احمدیہ سے درخواست ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی جماعتوں کو اپنی دعاؤں میں یادرکھیں اور عالم اسلام کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں کیونکہ احمدیت پر جتنی ضرب پڑتی ہے ان کی طرف سے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ہمیں تو بہت ترقی دیتا ہے لیکن عالم اسلام پر وہ ضرب پڑ جاتی ہے اور اس کے نقصانات بہت گہرے اور دیر پا ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ہندوستان میں جو بابری مسجد سے ہوا اس سے پہلے اس کے پس منظر میں احمدی مساجد جلائی گئیں ، منہدم کی گئیں، بر باد کیا گیا۔بنگلہ دیش میں حملے ہوئے۔وہ ساری باتیں یہ بھول جاتے ہیں اور پھر یہ نہیں سوچتے کہ یہ ایک سلسلہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہیں نصیحت دینے کے لئے یا بات سمجھانے کے لئے اپنی خاموش زبان میں جاری رہتا ہے۔ایک بدی بدی کے پھل لاتی ہے اور ایک غلط حرکت کے نتیجے میں اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑتا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں اور بات سمجھتے نہیں ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں نو نشانات حضرت موسی نے پے در پے ان کو دکھائے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ہر دفعہ کچھ تھوڑ اسا گمان ہوتا تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے لیکن پھر وہی پرانی باتیں پھر وہی حرکتیں یہاں تک کہ ساری قوم خدا کے حضور غرق ہوگئی۔یعنی وہ جو غرق ہوئے وہ بھی اور جو دوسرے بچے تھے وہ بھی خدا کے نزدیک غرق ہو چکے تھے۔تو اس لئے