خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 950
خطبات طاہر جلد ۱۲ 950 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء سے ثابت ہے۔جہاد کے دوران مسلمان نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے تھے اور دشمنوں پر ہیبت طاری ہوتی تھی۔یہاں اور موقع ہے سفر میں جارہے ہیں۔ذکر الہی کی تمنا پیدا ہوئی ہے۔تو سب نے اونچی اونچی آواز میں اللہ اکبر اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا۔اس سے خطرہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو خاموش ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ان کے ذکر میں ایسے لوگ مخل ہو جاتے ہیں۔یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اس کو ایک رسم ہی نہ بنا لیا جائے۔جس طرح الله هو ، الله هو کی آوازیں بلند کرنے والوں نے ذکر کی بجائے اس کو ایک رسم بنالیا اور سننے والوں پر ہیبت طاری کرنے کی ایک بے وجہ کوشش کی گویا ہم بہت بزرگ ہیں اللہ کی ہیبت نہیں ہماری ہیبت سے ڈرو۔پس ان رسومات کو قطع کرنے کے لئے ان کا قلع قمع کرنے کے لئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ دیکھو تم کس کو مخاطب ہو رہے ہو۔اللہ کو؟ وہ تو بہرا نہیں ہے، وہ دور بھی نہیں ہے، بہرے کو اونچی آواز میں سناتے ہیں، جو دور ہو اس کو اونچی آواز میں پکارتے ہیں وہ تو نہ بہرہ ہے نہ دور ہے، تمہارے ساتھ ہے۔تو یہاں ذکر کا انداز سکھایا گیا ہے۔وہ ذکر الہی جو زیادہ تر دل میں کیا جاتا ہے اور زبان پر اگر اظہار ہوتو اتنا اونچا نہیں ہوا کرتا کہ جس سے ساتھیوں کے ذکر میں خلل واقع ہو جائے اور غالبا خلل ہی کا مضمون ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے تہجد کے وقت بھی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کونصیحت کرتے ہوئے ایک کو فرمایا کہ تم ذرا اونچا کر تھوڑ اسا تا کہ رات کا وقت ہے مراد یہ تھی کہ کہیں دل میں سوچتے سوچتے نیند ہی نہ آ جائے۔کچھ ہلکا سازبان پر بھی ذکر جاری ہو اور جو اونچی آواز سے کر رہے تھے ان کو فرمایا که انتنا اونچی نه کر و دھیما دھیما، ذرا تحمل سے ہتھوڑا تھوڑا پڑھو۔تو ہر موقع محل کے مطابق حضرت اقدس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نصیحت فرمایا کرتے تھے۔اس لئے ایک نصیحت کو موقع محل سے ہٹا کر اس سے نئے استنباط کرنا جائز نہیں ہے۔جو نسبتا کم علم لوگ ہوں وہ چھوٹی بات پر زیادہ اچھل جاتے ہیں اور علماء کو میں نے دیکھا ہے کہ حدیث کا ایک پہلو پکڑ لیا اسی پر شور مچاتے چلے جاتے ہیں۔سوچتے نہیں کہ وہ ایک موقع سے تعلق رکھنے والی حدیث ہے ایک اور موقع سے تعلق رکھنے والی ویسی ہی حدیث اور معنے رکھتی ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کلام میں نتیجہ نکالنے میں جلدی نہیں کرنی