خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 942 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 942

خطبات طاہر جلد ۱۲ 942 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء چیز ہے۔تو میں پوچھتا ہوں کہ ایک بدکار عورت کے گانے سے بدمعاشوں کو زیادہ لذت آتی ہے۔ایسا کیوں ہے؟“ اگر یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں تو بد کار عورت کے گانے پر نیک لوگوں کی بجائے بد معاشوں کو کیوں زیادہ مزا آتا ہے۔کیا ان میں لذت روح اٹھانے کا زیادہ مادہ پایا جاتا ہے؟ بہت ہی عمدہ اور بڑی آخری ناطق دلیل آپ نے پیش فرمائی ہے۔کیا وہ لذت نفس کی وجہ سے عارف باللہ اور کامل انسان مانے صلى الله جائیں گے؟ ہر گز نہیں۔جن لوگوں نے خلاف شرع اور خلاف پیغمبری راہیں نکالیں ہیں ان کو یہی دھو کہ لگا ہے کہ وہ نفس اور روح کی لذت میں کوئی فرق نہیں کر سکتے۔اور نہ وہ ان بیہودگیوں میں روح کی لذت اور اطمینان نہ پاتے ان میں نفس مطمن نہ نہیں ہے جو بلھے شاہ کی کافیوں میں لذت کے جو یاں ہیں۔روح کی لذت قرآن شریف سے آتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه :۶۳) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”ہم جس خدا کو جانتے ہیں اس کی عبادت اور پرستش کے لئے نہ تو ان مشقتوں اور ریاضتوں کی ضرورت ہے اور نہ کسی مورتی کی حاجت ہے اور ہمارے مذہب میں خدائے تعالیٰ کو حاصل کرنے اور اس کی قدرت نمائیوں کے نظارے دیکھنے کے لئے ایسی تکالیف کے برداشت کرنے کی کچھ حاجت نہیں۔بلکہ وہ اپنے بچے پریمی بھگتوں کو آسان طریق سے جو ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے بہت جلد ملتا ہے۔انسان اگر اس کی طرف ایک قدم اٹھا تا ہے تو وہ دو قدم اٹھاتا ہے۔انسان اگر تیز چلتا ہے تو وہ دوڑ کر اس کے ہردے میں پر کاش کرتا ہے۔“ پھر جہاں تک بہترین وظیفے کا تعلق ہے اکثر لوگ، زیادہ تر ان میں غیر احمدی دوست ہیں۔جو مجھے لکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی مؤثر وظیفہ بتائیں کوئی ایسا وظیفہ جو ہمارے سارے بگڑے کام بنادے۔