خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 922 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 922

خطبات طاہر جلد ۱۲ 922 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء کے پیش نظر ترتیب دیا کریں کیونکہ جیسا کہ میں آج کل خطبات میں ذکر کر رہا ہوں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نئی قو میں احمدیت میں داخل ہونے والی ہیں اور ہو رہی ہیں اور ان کے نتیجے میں کثرت کے ساتھ تسبیح کی ضرورت ہے اور استغفار کی ضرورت ہے اور تسبیح اور استغفار کا تعلق ذکر الہی سے ہی ہے۔یہ مضمون قرآن کریم نے مختلف جگہ مختلف سورتوں میں باندھا ہے لیکن تسبیح بھی ایک ذکر ہے اور استغفار کی قبولیت بھی ذکر پر مبنی ہے۔اہلِ ذکر کا استغفار زیادہ قبول ہوتا ہے اور جو ذکر سے عاری ہوں ان کے استغفار کی کوئی حقیقت نہیں ہوا کرتی۔پس ذکر الہی پر جیسا کہ سنت سے ثابت ہے زور دیں اور ذکر الہی میں چونکہ اول نماز ہے اس لئے نماز کے قیام کی کوشش کریں اور نماز کے قیام کی کوشش میں نماز با ترجمہ سیکھنا، نماز کے آداب سکھانا، نماز پر قائم کر دینا ،نماز با جماعت کی عادت ڈالنا، اس کے تمام لوازمات سے آگاہ کرنا یہ سارے امور ہیں۔پس ایک روزہ اجتماع میں جس حد تک بھی ممکن ہے اس کی کوشش کر دیکھیں مگر ایک روز میں یہ کام ہونے والے نہیں ہیں۔قیام نماز کا تعلق تو ساری زندگی سے ہے۔آغاز سے آخر تک نماز کے قیام کی کوشش میں ہی مومن کی زندگی صرف ہو جاتی ہے۔پس ایک روزہ اجتماع میں ان کو کچھ سبق تو آپ دیں گے۔وہ ضرور دیں لیکن اجتماع کے بعد کی مسلسل نگرانی یہ ہے سب سے اہم بات اگر اجتماع کو آپ بیج بونے کا دن قرار دے لیں اور بیج بو کر اس سے غافل ہو جائیں تو اس پیج سے آپ کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔اگر وہ پھوٹے بھی اگر اس کے چگنے والے اس کو نہ بھی چگیں اور وہ پھوٹ جائے تو پھوٹنے کے بعد مختلف جانور اس کو چر جاتے ہیں، بغیر پانی کے بعض دفعہ سوکھ کے مرجاتا ہے۔پس اس پیج کا پھوٹنا جس کا نگران کوئی نہ ہو۔ایسا ہی ہے جیسے کسی کی قسمت پھوٹ جائے ، کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔تو اجتماعات بھی بیج بونے کے دن ہیں ان دنوں میں اچھے نیکی کے بیج بوئیں اور پھر ان بیجوں کی نگرانی کریں، کیسے پھوٹتے ہیں اور پھر ان کی کیسی حفاظت کی ضرورت پیش آتی ہے، کیا کیا محنت ان پر کرنی پڑتی ہے؟ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے سارے سال کی تربیت کے پروگرام بنائیں۔پس ہر اجتماع کے بعد ایک Fallow up پروگرام بھی ہونا چاہئے یعنی اجتماع میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی مسلسل نگرانی کہ وہ کس حد تک لوگوں نے یاد رکھا، کس حد تک اس سے استفادہ کیا، کس