خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 898
خطبات طاہر جلد ۱۲ 898 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء مرحلے ہیں۔ان کی طرف آپ کو متوجہ رہنا چاہئے۔اب میں بعض ذکر کے تعلق میں بعض دوسرے بزرگوں کے اقوال پیش کرتا ہوں۔کچھ نئے پہلو اس سے آپ کے ذہن میں آجائیں گے۔علامہ قشیری نے ذکر کے متعلق اپنی ایک کتاب میں مختلف بزرگوں کے، صوفیاء کے حوالے اکٹھے کئے ہیں۔اور وہ مختلف بزرگوں کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں اور اپنے تجربوں کے لحاظ سے بھی ذکر کے مختلف پہلو بیان کرتے ہیں۔سئل الواسطى عن ذكر فقال الخروج من ميدان الغفلة الى فضاء المشاهدة على غلبة الخوف و شدة الحب“ یہاں لفظ میں نے فَضَاءُ پڑھا ہے فِضَاءُ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔فضاء کا مطلب ہے کھلی ہوا اور فضاء کا مطلب ہے وہ کھلی جگہ جو جنگلوں اور جھاڑیوں کے درمیان اچانک ایک کھلے سے میدان کے طور پر ابھرتی ہے تو چونکہ اس پر کوئی اعراب نہیں ہیں اس لئے دونوں طرح مضمون بہر حال ٹھیک سمجھ آ جا سکتا ہے۔واسطی سے جب پوچھا گیا کہ ذکر کیا ہے تو کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا الخروج من میدان الغفلة - انسان غفلت کے میدان میں پڑا رہتا ہے۔وہاں سے نکل کر اگر وہ مشاہدہ کے میدان میں آجائے یا مشاہدہ کی فضا میں داخل ہو جائے۔تو اس کے نتیجے میں ، مگر اس کے ساتھ شرطیں ہیں کچھ عـلـى غلبة الخوف و شدة الحب۔یہ واقعہ اس طرح ہو کہ دل پر اللہ کا خوف غالب ہو اور دل پر اللہ کی محبت بھی غالب ہو۔بیک وقت خوف اور محبت دل پر غلبہ کر جائیں اس حالت میں جب وہ غفلت کے میدان سے نکل کر مشاہدہ کے میدان میں یا مشاہدہ کی فضا میں داخل ہوتا ہے اس کا نام ذکر ہے۔تو یہ زبان آپ سمجھے کہ نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں۔اس پر غور کریں اور سمجھیں کہ یہ بزرگ صوفی کہ جنہوں نے زندگیاں گزاری ہیں۔ذکر الہی کو سمجھنے میں، اس پر غور کرنے میں، اس میں مصروف رہ کر۔انہوں نے اپنی زندگیوں کے خلاصے کچھ نہ کچھ بیان کئے ہیں۔اور یہ باتیں قابل غور ہیں۔غفلت کے میدان سے مراد یہ ہے کہ میدان تو دونوں زندگی کے میدان ہی دراصل ہیں۔دو الگ الگ میدان نہیں ہیں۔زندگی کے میدان میں آپ غفلت کی حالت میں بھی آپ وقت گزار سکتے ہیں۔آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ گرد و پیش میں کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے آپ تنہا ہیں اس میدان