خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 897
خطبات طاہر جلد ۱۲ 897 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء نہ ہو کہ فور ابات یاد آ جائے تو آپ جتنی مرضی گانٹھیں دے لیں تو وہ گانٹھیں ہی رہ جائیں گی۔مگر یہ ذکر کا آخری مقام ہے۔اگر اور کچھ نہیں تو کچھ گانٹھیں ہی دے لیا کریں یا درکھنے کے لئے۔کچھ فیصلے کر لئے کریں کہ فلاں بات جب ہوگی تو میں اللہ کو یاد کروں گا۔مثلاً کھانا کھانا ہے، پانی پینا ہے، اچھی مزے کی چیز حاصل کرنا ہے۔آرام کے وقت اور کوئی نعمت کا میسر آ جانا، تجارت میں کامیابی وغیرہ وغیرہ۔یہ گانٹھیں ہیں۔ان لوگوں کے لئے گانٹھیں ہیں جو عام طور پر ان چیزوں سے گزرتے ہیں اور خدا کو یاد نہیں کرتے کچھ تو ہیں جن کو یاد آتا ہی چلا جاتا ہے۔تو آغاز اس سے کریں کہ ان چیزوں کو گانٹھیں بنائیں اور خدا کے ذکر کے لئے بہانے بنالیں اور پھر روزانہ دیکھا کریں کہ گانٹھ کر وہ بات یاد آئی بھی تھی کہ نہیں اس طرح کوشش کر کے آپ دوسرے حصے میں داخل ہو جائیں گے جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ کوشش کر کے بات یاد کرنا اور یہ اہلیت رکھنا کہ یاد آ جائے۔اس سے پھر اللہ تعالی نسبتا زیادہ یاد آنا شروع ہو گا اور پھر اس مقام میں داخل ہو جائیں گے کہ جہاں خدا حفظ ہونا شروع ہو جائے گا یعنی از بر ہو جائے گا۔خود بخود بغیر کوشش کے اور جب اس مقام پر پہنچتے ہیں تو پھر آپ کثرت سے اللہ کا زبان سے بھی ذکر کرنے لگتے ہیں اور دل سے یہ پھوٹتا ہے اور خود بخود ظاہر ہوتا ہے اور تمام ماحول اس ذکر سے لذت یاب ہوتا ہے۔کیونکہ آپ کو جو دل کی کیفیات ہیں وہ بیان کرنے کے لئے دل ہی سے طاقت ملتی ہے۔ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ ذکر جو ہے وہ لوگوں کے لئے پسندیدہ ہوتا ہے۔اس کے بغیر جوذ کر الہی ہے۔وہ کسی پر اثر نہیں کرسکتا۔چنانچہ آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں اگر ان تجارب سے آپ نہ گزرے ہوں اور آپ کسی دہر یہ کوکہیں کہ خدا ہے تو آپ کی آواز میں بھی جان ہی نہیں ہو گی۔اس بے چارے نے کہاں سے قبول کرنا ہے۔کہتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ اگر دلیل مانگی تو کیا دوں گا از خود فطری جوش سے بات نہیں نکلتی اور چونکہ خدا حفظ نہیں ہوتا اس لئے اس کی تائید میں کوئی دلیل بھی یاد نہیں رہتی۔جن تجارب کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں سے آپ گزریں تو ہر تجربہ جس میں خدا تعالیٰ کی کوئی صفت آپ نے سوچی آپ کے حالات پر صادق آئی آپ نے اس سے لطف اٹھایا۔خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت بن جاتی ہے۔آپ کی زندگی کا ہر واقعہ جس نے خدا یاد دلایا وہ اللہ کے حق میں ایک دلیل ہے۔اور آپ کو اس معاملے میں پھر دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتا تو ذکر کو زبان سے جاری کرنے سے پہلے جو تمام