خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 872 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 872

خطبات طاہر جلد ۱۲ 872 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء طرح اٹھتی اور ایک ہی طرح خاموش ہوتی ہے۔ایک بہت ہی خوب صورت نظام ہے، اس نظام کی قدر کرنی چاہئے اور اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔اس نظام کا ڈکٹیٹر شپ سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ فیصلے جو خلیفہ وقت کی طرف سے صادر ہوتے ہیں اگر ان کا مطالعہ کر لیں اور ان مشوروں پر غور کریں جو بھیجے گئے تھے تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے جماعت کو غلط فیصلوں سے محفوظ رکھا اور ایک جگہ بھی کسی ایک ادنی سے موقعے پر بھی خلیفہ کا فیصلہ آمرانہ نہیں ہوتا۔ایک معقول وجہ پرمبنی ہوتا ہے جس کی وہ وضاحت کرتا ہے اور ہر دل مطمئن ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب یہ فیصلے جماعتوں کو پہنچتے ہیں تو اختلافی فیصلوں کے متعلق بہت زیادہ تشکر کے اظہار آتے ہیں۔به نسبت موافقانہ فیصلوں کے مجھے اپنے اس مختصر دور میں ایک بھی مثال یاد نہیں کہ کسی مجلس شورای کے فیصلے کو ترمیم کے ساتھ قبول کیا ہو یا رد کیا ہو اور وضاحت کی ہو کہ کیوں ایسا کیا گیا ہے۔تو کسی کی طرف سے شکوے کا اظہار ہوا ہو کہ او ہو ہو آپ نے ہماری اکثریت کی رائے کو رد کر دیا اور ٹھیک نہیں کیا۔بلاشبہ ہر دفعہ اظہار تشکر اور دعاؤں پر مبنی خطوط ملتے ہیں کہ اس طرف ہماری نظر نہیں گئی اور بڑا اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک بڑی ٹھوکر سے بچا لیا اور نظام جماعت کی خود حفاظت فرمائی۔پس نظام شوری جو اہمیت رکھتا ہے۔یادرکھیں یہ نظام خلافت کے ساتھ وابستہ رہ کر اہمیت رکھتا ہے۔اگر اس نظام کو خلافت کے نظام سے الگ کر دیا اور بے تعلق کر کے اس سے استفادے کی کوشش کی۔تو یہ فائدے کی بجائے آپ کی ہلاکت کا موجب بھی بن سکتا ہے کیونکہ یہ شوریٰ پھر جماعت میں انتشار پیدا کر دے گی اور طرح طرح کے وساوس جماعت میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گے۔پس مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی شورای ہو یا دنیا میں کہیں اور شورای منعقد ہو رہی ہو یا آئندہ ہو ان سب کو میری ایک ہی نصیحت ہے کہ شوری کی روح کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ اگر آپ مجالس شورا ی کو نظام خلافت سے وابستہ رکھیں گے اور ایک ہی وجود کے دو اجزا کے طور پر ان سے استفادہ کریں گے تو اس آیت کریمہ کی برکت ابد تک آپ کے ساتھ رہے گی اور آپ کی حفاظت کرے گی اور فیصلہ کرنے والے کا اللہ پر تو کل ساری جماعت کا تو کل بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ ساری جماعت کو اس تو کل کی جزا دے گا اور غلطیوں سے ان کو محفوظ فرمائے گا اور تمام فیصلوں میں برکت رکھے گا اور ان پر صیح معنوں میں عمل درآمد کی توفیق بخشے گا۔