خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 871 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 871

خطبات طاہر جلد ۱۲ 871 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء شورای ہیں۔ان کے صدر ان کے مقابل پر احمدی صدر کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ نسبتا زیادہ روشنی عطا کرتا ہے، اس کی زیادہ حفاظت کرتا ہے اور الا ما شاء اللہ بہت احتیاط کے ساتھ مجلس شورای کی کارروائی کرواتے اور لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتے اور مشوروں پر غور کرتے ہیں لیکن آخری فیصلے کے پھر بھی وہ مجاز نہیں ہیں۔اس لئے ایسی تمام مجالس شوریٰ جو دنیا میں کہیں بھی منعقد ہورہی ہوں۔ان سب کے فیصلے آخری فیصلے کے لئے خلافت کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔اب چونکہ ذیلی تنظیموں کا نظام عام ہو رہا ہے ، اب چونکہ جماعت کی مجالس شوری کا نظام بھی ساری دنیا میں عام ہورہا ہے۔اس لئے اس موقعے پر میں سمجھتا ہوں کہ ان باتوں کو پھر یاد کرواؤں کہ آپ کی مجلس شوری کے فیصلے خواہ کسی بھی حیثیت میں وہ مجلس شوری منعقد ہوئی ہو فیصلے ایک رنگ میں تو فیصلے کہلا سکتے ہیں ایک رنگ میں محض مشورے ہیں۔فیصلہ ان معنوں میں کہ وہاں کی اکثریت نے یہ بات طے کی اور اس مجلس کے صدر نے بھی اس سے اتفاق کر لیا لیکن حقیقی معنوں میں وہ آخری فیصلہ شمار نہیں ہو سکتے جب تک کہ خلافت کی طرف سے ان پر صادنہ ہو جائے اور اسی لئے بکثرت ایسے فیصلوں پر مجھے غور کرنا پڑتا ہے جو دنیا کے کونے کونے سے مجلس شوری کے فیصلوں کے طور پر میرے سامنے پیش ہوتے ہیں اور قرآنی نظام کی صداقت اور عظمت کا گہرا احساس دل میں پیدا ہوتا ہے۔اگر یہ نظام نہ ہوتا تو جماعت بکثرت دھو کے کھاتی ٹھوکروں میں مبتلا ہوتی ، ایک نظام اور ایک وحدت سے منسلک رہنے کی بجائے مختلف راستے اختیار کر لیتی مختلف مجالس شوری کے فیصلے ایک ہی ملک میں دوسری مجالس شورای کے فیصلوں سے متصادم ہو جاتے اور ذیلی جماعتوں کے فیصلے جماعتی فیصلوں سے متصادم ہو جاتے۔ایک فساد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔پس یہ بھی اسی آیت کریمہ کا فیض ہے۔وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ کہ فیصلے کا مرکز ایک ہی رکھا ہے اور باقی سارے غور مشورے کی حد تک ہیں۔یہ سارے فیصلے جب ایک مرکز خیال میں اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک مرکز فکر میں زیر غور لائے جاتے ہیں تو تمام فیصلوں میں یک جہتی پائی جاتی ہے اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور کہیں کوئی افتراق کا کوئی شائبہ بھی باقی نہیں رہتا۔کل عالم کا نظام جماعت ایک ہی سمت میں قدم بہ قدم آگے بڑھتا ہے اور اس طرح قدم ملا کر آگے بڑھتا ہے کہ سب کا رخ بھی وہی اور سب کی آواز بھی ایک ہی