خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 850
خطبات طاہر جلد ۱۲ 850 خطبه جمعه ۵ نومبر ۱۹۹۳ء کرنے اور اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔جہاں تک آپس کی دوڑ کا تعلق ہے میں اس کا اس لئے ذکر کیا کرتا ہوں کہ استباق فی الخیرات، قرآن کریم نے ہمارا نصب العین مقررفرمایا ہوا ہے۔نسبقت فی الخیرات کا مطلب ہے۔اچھی چیزوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا، یہ بہت اہم پہلو آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سے کبھی کسی مذہب نے اپنے متبعین کے لئے یہ نصب العین مقرر نہیں کیا۔اس پہلو سے اسلام ایک حیرت انگیز استثنائی شان رکھتا ہے۔جس میں دنیا کا کوئی اور مذہب شریک نہیں۔اچھے سے اچھے مختلف نصب العین یعنی Mottos مقرر کئے جاسکتے ہیں کہ ہم تمہارے سامنے یہ مقصد ر کھتے ہیں اسے حاصل کرنے کے لئے دوڑ لگاؤ اور کوشش کرو۔یہ نصب العین! سوچیں کہ زندگی کے ہر دائرے پر حاوی ہو گیا ہے۔ہراچھی بات میں ہر نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔حیرت انگیز دوڑ ہر وقت جاری ہے، ہر گھر میں ہے، ہر وجود کے اندر اس کا احساس موجود ہے اور انسانی زندگی نیکیوں کے لحاظ سے سینکڑوں ہزاروں حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔پس کوئی بھی نیکی ہو جہاں کسی اور شخص کو آپ ایک اچھا کام کرتا دیکھیں وہاں یہ تحریک دل میں پیدا ہونی چاہئے کہ میں اس معاملہ میں اس سے آگے بڑھوں اور یہ انفرادی تحریک جب اجتماعی تحریک میں بدلتی ہے تو نیکیوں کا ایک سمندر بلکہ مواج سمندر بن جاتا ہے یعنی اس جوش کے ساتھ لہریں اٹھتی ہیں اور اتنا حیرت انگیز ہیجان پیدا ہو جاتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر لہر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ خوبصورتی آپ کو اسلام کے سوا اور کہیں دکھائی نہیں دے گی۔پس اس معاملہ میں بھی آپ کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جب میں اعلان کرتا ہوں کہ فلاں جماعت فلاں سے آگے نکل گئی یا اس وقت بڑی جماعتوں کا یہ حال ہے تو اس کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ باقی جماعتوں کو تحریک ہو کہ وہ ان سے آگے نکلنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ ان کے لئے دعا کی تحریک ہو اور دعا کی تحریک بھی دو پہلو رکھتی ہے۔جو سبقت لے گئے ہیں ان کے لئے یہ دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی نیکیوں کی سبقتیں قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کے لئے یہ دعا کہ اگر ان کی پوری صلاحیتیں استعمال نہیں ہوئیں تو اللہ تعالیٰ انہیں پوری