خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 848 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 848

خطبات طاہر جلد ۱۲ 848 خطبه جمعه ۵ نومبر ۱۹۹۳ء کریں اور حسب توفیق جس نے جو چندہ دینا ہو خواہ وہ ایک پیسہ ہو وہ اپنے اوپر فرض کر لے اور پھر وہ ضرور ادا کرے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ساری جماعتوں کا بجٹ لازماً بن جائے گا اور ساتھ ہی تحریک جدید کے متعلق ان کو کچھ نہ کچھ سنانا شروع کر دیں کیونکہ چندہ عام کے بعد سب سے زیادہ اہم تحریک جو عمومی طور پر جماعت کے لئے جاری فرمائی گئی ہے وہ تحریک جدید کا چندہ ہے۔کیونکہ اس کا تعلق ساری دنیا میں اشاعت اسلام سے ہے اور خالصہ اس اعلیٰ مقصد کے لئے وقف ہے پس آج جو میں یہ نئی ہدایت دے رہا ہوں اسے دنیا بھر کی جماعتیں اچھی طرح سمجھ لیں۔جہاں پہلے چندے کے معاملہ میں نرم روی اختیار کرتے ہوئے آہستہ آہستہ دل موہ کر نئے احمدیوں کو چندوں سے واقفیت کرائی جاتی تھی اور ان کو آہستہ آہستہ ان باتوں کا عادی بنایا جاتا تھا ان کے لئے یہ نئی ہدایت ہے کہ تحریک جدید کے چندے کو بھی اب وہ اس میں شامل کر لیں اور چاہے کوئی کتنی تھوڑی رقم بھی ادا کرنا چاہے اس کو اس طرح قبول کر لیں کہ تحریک جدید کے لئے جو کم سے کم معیار ہم نے مقرر کیا ہوا ہے۔مثلاً پاکستان میں اگر وہ ۲۴ روپے ہے یا ۱۲ روپے ( مجھے یاد نہیں ) لیکن جتنا بھی ہے، کم سے کم جو معیار مقرر کیا ہوا ہے اس کے متبادل اگر کوئی ایک شخص چندہ نہیں دے سکتا تو دو تین چار پانچ کو، پورے خاندان کو اس چندے میں شامل کر لیں۔سال میں ایک دفعہ دینا ہے اگر اس طرح ایک دفعہ دینے کی عادت پڑ جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے آئندہ بہت برکت پڑتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ تحریک جدید کے چندے کے آغاز کے بعد جماعت کے دوسرے چندوں پر بھی غیر معمولی اثر پڑا تھا کیونکہ اس سے پہلے کوئی ایسی تحریک نہیں تھی کہ چھوٹے بچے کم سنی میں چندوں میں شامل ہوتے۔ہر کمانے والا چندہ دیتا تھا اور بسا اوقات اس چندے سے ان کی بیویاں بھی نا واقف رہتی تھیں بچے بھی ناواقف رہتے تھے بلکہ جہاں تربیت کی کمی تھی وہاں بیویاں چونکہ خود قربانی نہیں کرتی تھیں اس لئے بعض بیویاں خاوندوں کی قربانیوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں اور اپنی اولاد کے دل میں بھی اس سلسلہ میں وسوسے پیدا کیا کرتی تھیں، نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ اس کا بعض علاقوں میں بھاری نقصان پہنچا اور اچھے مخلص قربانی کرنے والے والد کے بچے ماں کے اس اثر کے نیچے رفتہ رفتہ سرکتے ہوئے جماعت سے دور ہونے لگے کہ بیوی کی پیار کی نظر اس پیسے پر ہوتی تھی جو خاوند اس کے ہاتھ پر رکھتا تھا اور پریشانی اور گھبراہٹ کی نظر اس پیسے پر ہوتی تھی جو وہ جماعت کو پیش کرتا تھا۔