خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 847 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 847

خطبات طاہر جلد ۱۲ 847 خطبه جمعه ۵ نومبر ۱۹۹۳ء ان کے مطابق جماعت احمد یہ عالمگیر کے وعدہ جات سال ۹۳-۹۲ء میں 4 کروڑ 85 لاکھ 39 ہزار 242 روپے تھے اور وصولی 4 کروڑ 87 لاکھ 21 ہزار 425 روپے ہے۔یہ رپورٹ پاکستانی روپوں میں مرتب ہوئی تھی جس کا اسٹرلنگ پاؤنڈ میں متبادل یہ ہے کہ تمام دنیا کے چندہ دہندگان جو 61 عالمی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی طرف سے 10 لاکھ 87 ہزار 836 پاؤنڈ کے وعدے موصول ہوئے تھے اور وصولی اللہ کے فضل سے 10 لاکھ 91 ہزار 919 پاؤنڈ ہوئی ہے۔اس ضمن میں میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے اب ملکوں کے لحاظ سے جماعتوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اور گزشتہ سال 135 ممالک میں جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں چندوں کے لحاظ سے ابھی تربیت مکمل نہیں ہوئی۔تربیت تو کبھی کسی لحاظ سے مکمل نہیں ہوا کرتی لیکن مطلب یہ ہے کہ اتنا آغاز بھی نہیں ہوا کہ وہ ہر چندے کو پہچان لیں اور اس میں شمولیت اختیار کریں۔اس لئے نئے ممالک میں اس وقت تک میری ہدایات یہی تھیں کہ چندہ عام کی طرف ان کو لایا جائے اور شرح بھی بے شک نسبتا ملکی رکھی جائے۔عام طور پر وہ احمدی جو خدا کے فضل سے احمدیت میں جذب ہو جاتے ہیں اور ثبات قدم اختیار کر جاتے ہیں ان کو کم از کم 1/16 ہر مہینے دینا ہوتا ہے یا جب بھی آمد ہو اس کا 1/16 دینا ہوتا ہے لیکن جو کمزور ہیں یا مالی لحاظ سے جن پر ذمہ داریاں ہیں اگر وہ مجھے لکھیں تو میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق جتنا بھی وہ خوشی سے دے سکتے ہیں وہ قبول کیا جائے گا۔نئے ملکوں کی جماعتوں کے متعلق یہ عمومی ہدایت ہے کہ جولوگ ان کی تربیت پر مامور ہیں وہ شروع میں ان کو صرف چندے کی عادت ڈالیں اور شرح پر زیادہ زور نہ دیں کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب چندوں کا آغاز فرمایا تھا تو اس وقت کوئی شرح مقر ر نہیں فرمائی تھی بلکہ یہ اعلان فرمایا تھا ہر شخص اپنے اخلاص اور توفیق کے مطابق جس حد تک کوشش کر سکتا ہے مالی جہاد میں شمولیت کی کوشش کرے اور اپنے اوپر کچھ فرض ضرور کرلے لیکن جب فرض کرے تو اس میں پابندی ضرور اختیار کرے۔یہی پالیسی نئی جماعتوں کے لئے تھی اور ہے یعنی جہاں ابھی پوری طرح نظام جماعت گہرے طور پر مستحکم نہیں ہوا، وہاں کی جماعتیں جن لوگوں کے سپرد ہیں وہ وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اسی نصیحت کے مطابق ان سے چندہ ضرور لیں لیکن شرح مقرر نہ